نیپرا کو بجلی گھروں کی پانچ سالہ بیلنس شیٹس جمع کرانے کی ہدایت

newsdesk
5 Min Read

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک میں بجلی کے منصوبوں، بجلی کی قیمتوں اور صوبوں کے حصے پر اہم معاملات زیر بحث آئے۔ اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز نے خیبر پختونخوا کے آبی بجلی منصوبوں کو آئی جی سی ای پی میں شامل نہ کرنے پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اس معاملے پر نظر ثانی کی ہدایت کی، تاکہ صوبے اور ملک دونوں کو فائدہ ہو سکے۔

اجلاس میں 207 میگاواٹ مدین اور 88 میگاواٹ گبرال پن بجلی منصوبوں سمیت دیگر توانائی کے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے خصوصی معاون برائے توانائی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان منصوبوں کے لیے پانچ ارب روپے مالیت کی زمین خریدی جا چکی ہے اور پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم وفاقی حکومت نے ان منصوبوں کو آئی جی سی ای پی کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد لغاری نے وضاحت دی کہ خیبر پختونخوا کے حکام نے سی سی آئی کی منظور کردہ پالیسی مکمل طور پر پیش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو شامل کیا گیا تو 2034 تک بجلی کی قیمت چھ روپے فی یونٹ بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے 8 ہزار سے 10 ہزار میگاواٹ کے منصوبے، جن میں کئی سی پیک کے منصوبے بھی شامل ہیں، پلان سے نکال دیے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے پانچ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے ہیں اور بعض معاہدوں کی از سر نو مذاکرات کے نتیجے میں اگلے چار سے پانچ برس میں تین اعشاریہ چار کھرب روپے کی بچت ہو گی۔ رواں برس بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں 191 ارب روپے کی کمی آئی۔ وفاقی وزیر نے بجلی چوری کے مسائل تسلیم کیے لیکن کہا کہ مسابقتی مارکیٹ کے قیام کا ہدف مکمل ہو گیا ہے اور اب حکومت پر لازمی خریداری کا بوجھ نہیں رہا۔

کمیٹی کی جانب سے کیپٹیو پاور پلانٹس، درآمد شدہ کوئلے و ایل این جی منصوبوں اور پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے ٹیرف پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس سلسلے میں جائزہ لیا جا رہا ہے اور 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے۔ چیئرمین نے حکومت سے کہا کہ ٹیرف میں اضافے سے صارفین کو بچانے کے لیے مختلف سلیب ریٹس متعارف کرائے جائیں۔

سپلائی پر بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ وہیلنگ چارجز سے متعلق نیپرا کے قوائد میں تبدیلی ہو گئی ہے اور اب 28 روپے کی مستقل شرح کو ہٹا کر 12 روپے کی بنیادی شرح رکھی گئی ہے جو نیپرا کی منظوری کے لیے پیش ہے۔

آئی پی پیز کے ریٹرن آن انویسٹمنٹ (آر او آئی) کے معاملے پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کچھ بجلی گھروں کا منافع 100 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں۔ نیپرا حکام نے وضاحت دی کہ یہ زیادہ منافع ڈالر بینادی ادائیگیوں کی وجہ سے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں نیپرا حکام ان بجلی گھروں کی پچھلے پانچ برس کی بیلنس شیٹس پیش کریں۔

نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) پر گفتگو کے دوران نیپرا حکام نے کہا کہ یہ ادائیگیاں صوبوں کو کی جا رہی ہیں، تاہم خیبر پختونخوا کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ یہ رقم انتہائی کم ہے اور بقایا جات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ نیپرا ہر ماہ صوبوں کو خاطرخواہ این ایچ پی ادائیگی کرے اور خیبر پختونخوا کو کم از کم پانچ ارب روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں۔

اجلاس میں سینیٹرز راحت جمالی، منظور احمد، حاجی ہدایت اللہ خان، محمد اسلم ابڑو، پونجو بھیل، احمد خان، دانش کمار، مرزا محمد آفریدی اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے