قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار کی ایڈوائزری جاری

newsdesk
3 Min Read
قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحیٰ کے پیشِ نظر کانگو بخار سے بچاؤ کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں، جانوروں کے ساتھ حفاظتی احتیاطیں ضروری قرار پائیں

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران جانوروں کی نقل و حرکت اور عوام کا حیوانات کے قریب آنا بڑھ جانے کے باعث کانگو بخار کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور اسی تناظر میں صحت کے متعلقہ اداروں کو بروقت اور مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔نوٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کانگو بخار ایک مخصوص نوعیت کے وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جو عام طور پر چیچڑی نامی نَقْل کنندہ کی وجہ سے جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ چیچڑی یا متاثرہ جانور کے خون اور بافتوں کے ذریعے یہ وائرس انسانوں تک پہنچ سکتا ہے اور متاثرہ شخص سے دوسرے افراد میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ملکی تاریخ میں کانگو بخار کا پہلا کیس سن ١٩٧٦ میں رپورٹ ہوا تھا اور صوبہ بلوچستان میں دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ دیگر صوبوں جیسے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواٰ سے بھی اس بیماری کے واقعات درج ہوتے رہتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سال ٢٠٢٤ میں ملک بھر میں کل ٦١ تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں شرح اموات ایک پندرہ فیصد رہی۔ سال ٢٠٢٥ میں کیسز کی تعداد بڑھ کر ٨٢ تک پہنچ گئی جن میں بیس اموات شامل تھیں جبکہ مارچ ٢٠٢٦ تک چار نئے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ معلومات خطرے کی سطح اور حفاظتی تیاریوں کی ضرورت واضح کرتی ہیں۔ایڈوائزری میں عوام کے لیے مخصوص حفاظتی رہنمائی بھی دی گئی ہے تاکہ کانگو بخار سے بچا جا سکے۔ ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ کپڑوں پر چیچڑی کا پتہ آسانی سے چل سکے۔ اگر جلد یا لباس پر چیچڑی ملے تو اسے محفوظ طریقے سے ہٹایا جائے اور ایسے علاقوں سے پرہیز کیا جائے جہاں چیچڑی کثرت سے پائی جاتی ہوں۔ جانور ذبح کرتے اور گوشت تیار کرتے وقت دستانے اور حفاظتی انتظامات کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے اور جانور کے خون یا بافتوں کے براہ راست رابطے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے، نیز ذبح کے بعد خون اور آلائشوں کو احتیاط کے ساتھ تلف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ایڈوائزری میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کانگو بخار کے معاملات کی بروقت شناخت اور متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے کی نگرانی اہم ہے، اس لیے طبی ادارے اور مقامی صحت کے مراکز کو الرٹ رہنے اور لازمی حفاظتی پروٹوکول نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید معلومات اور تفصیلی رہنمائی متعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے