قومی تعلیمی یکجہتی کی جانب تاریخی پیش رفت: آؤٹ آف اسکول بچوں کے لیے نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان کی متفقہ منظوری
اسلام آباد: 38ویں انٹر پروونشل ایجوکیشن منسٹرز کانفرنس (IPEMC) میں ملک بھر کے آؤٹ آف اسکول بچوں (OOSC) کے لیے نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان کی صوبائی اجزا سمیت متفقہ منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے کی۔
اعلیٰ سطحی کانفرنس میں وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر، وفاقی پارلیمانی سیکریٹری فرح ناز اکبر، سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب اور صوبائی وزرائے تعلیم نے شرکت کی جن میں بلوچستان سے راحیلہ حمید درانی، سندھ سے محمد اسماعیل راہو، پنجاب سے رانا اقبال سکندر (ویڈیو لنک کے ذریعے) اور خیبر پختونخوا سے ارشد ایوب خان (ویڈیو لنک کے ذریعے) شامل تھے۔ اس موقع پر وفاقی تعلیمی اداروں کے سربراہان، چیئرمین وفاقی تعلیمی بورڈ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران شرکاء کو وفاقی حکومت کے خصوصی چیلنج فنڈ پر بریفنگ دی گئی، جس کا مقصد ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تمام صوبوں کو اس قومی تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔ کانفرنس میں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا گیا اور تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے، آؤٹ آف اسکول بچوں کی واپسی اور بین الاقوامی معیار کے امتحانی و نصابی اصلاحات پر اتفاق کیا گیا۔
صوبائی نمائندوں نے اپنی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں 18 لاکھ فرضی طلبہ کا خاتمہ کیا گیا اور 10 ہزار اسکول آؤٹ سورس کیے گئے۔ سندھ کے وزیر تعلیم محمد اسماعیل راہو نے 93 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی تصدیق کی۔ بلوچستان کی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے 3 ہزار 200 بند اسکول بحال ہونے اور ایک لاکھ 40 ہزار بچوں کی دوبارہ اسکولوں میں شمولیت سے آگاہ کیا۔ خیبر پختونخوا میں انرولمنٹ میں 6 فیصد اضافہ اور 10 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی گئی۔ آزاد کشمیر کے وزیر ملک ظفر نے لائن آف کنٹرول کی صورتحال کے باوجود 10 ہزار نئے کلاس رومز کے لیے 7 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا، جبکہ گلگت بلتستان نے آؤٹ آف اسکول بچوں کے لیے خصوصی فنڈز اور اسکول میل پروگرام کی توسیع سے متعلق اقدامات پیش کیے۔
سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب نے بتایا کہ منظور شدہ تمام منصوبوں کی حتمی توثیق وزیراعظم کی سربراہی میں قائم ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس کرے گی۔ انہوں نے صوبوں کو وفاقی تعلیمی بورڈ کے اصلاحاتی پروگرام سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور میٹرک و انٹر ٹیک پروگرامز کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے بریفنگ میں بتایا کہ نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان چھ ماہ کی اسٹیک ہولڈر مشاورت کے بعد تیار کیا گیا، جس کا مقصد 2 کروڑ 50 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کے مسئلے کا حل ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر تکنیکی تعلیم سے متعلق منصوبوں، نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس کی شرائطِ کار، ڈیٹا ریجیم، جدید نصابی اصلاحات اور کردار سازی کی قومی حکمتِ عملی سمیت متعدد ایجنڈاز کی متفقہ منظوری دی گئی۔
اپنے اختتامی خطاب میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تمام شراکت داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے قومی ہم آہنگی کا سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام وفاقی اکائیوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس عزم کی علامت ہے کہ پاکستان تعلیمی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے غیر رسمی تعلیم، دور دراز علاقوں تک تعلیمی رسائی اور مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں شامل کرنے کو آئندہ ترجیحات قرار دیا۔
