محیب اللہ و وقار پاکستان کی فتح کے لیے پرامید

newsdesk
4 Min Read
محیب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف میچ سے قبل بہتر تربیت، فٹنس اور ٹیم ہم آہنگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کوچ کی حکمت عملی نے مثبت نتائج دیے۔

میانمار کے خلاف اہم مقابلے سے قبل محیب اللہ و وقار نے ٹیم کی بہتر تیاریاں اور میدان میں مثبت کارکردگی دکھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ تربیتی کیمپ میں ہر شعبے میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور کھلاڑی کوچنگ عمل کے مطابق اچھی طرح جواب دے رہے ہیں۔محیب اللہ و وقار نے واضح کیا کہ گزشتہ میچوں میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلا جانے والا وقت اور مستقل ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ ٹیم کی ہم آہنگی میں اضافہ کا باعث بنا ہے۔ محیب اللہ نے کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے اور کھلاڑیوں کو مناسب گیم ٹائم مل رہا ہے جس سے ٹیم مزید تیار ہوئی ہے۔وقار نے کوچ شہزاد انور سولانو کی وہ فضا سراہیں جس میں پیشہ ورانہ ڈسپلن کے ساتھ کھلاڑیوں کو خود کو اظہار کرنے کی آزادی دی جاتی ہے۔ وقار کے مطابق کوچ نے مقامی کھلاڑیوں پر اعتماد کر کے نئی توانائی میں شامل کی ہے اور اس کا اثر کیمپ کی فضا میں نمایاں ہے۔ وقار نے کہا، "ہماری تیاری اس بار پہلے سے بہتر ہے، انشاء اللہ امید ہے ہم جیت سکیں گے۔”تربیتی معیار کو بہتر بنانے میں ٹرینر ریان عباسی کا کردار بھی نمایاں رہا۔ فٹنس پر زور دیا گیا اور کھلاڑیوں کی حالت بہتر مانی جا رہی ہے۔ رمضان کے ابتدائی دنوں میں روزے رکھنے کی وجہ سے کچھ مشکلات درپیش تھیں مگر ایک ہفتے سے زائد مشترکہ تربیت کے بعد جسمانی تندرستی واپس آ گئی ہے اور ٹیم نے فٹنس میں خاطر خواہ بہتری دکھائی ہے۔کیمپ میں موجودہ ماحول دوستانہ اور توجہ مرکوز ہے، جس کی وجہ سے کم عمر کھلاڑی جلدی سے نظام میں گھل مل گئے ہیں۔ محیب اللہ نے کہا کہ کئی کھلاڑی پہلے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تربیت کر چکے ہیں، اس لیے کیمسٹری برقرار ہے اور نئے نوجوان تیزی سے منصوبے سمجھ رہے ہیں۔دونوں کھلاڑیوں نے حالیہ شاندار حریفوں کے خلاف میچوں کو بھی ٹیم کی ترقی میں کلیدی قرار دیا اور بتایا کہ اس تجربے نے ٹیم کو تکنیکی اور ذہنی طور پر مضبوط کیا ہے۔ وقار نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ماضی میں میانمار کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور اسی اعتماد کے ساتھ اب بھی تیار ہیں۔ایک اور اہم نکتہ خالی ہالز کا اثر ہے؛ محیب اللہ نے کہا کہ شائقین کی غیر موجودگی کھیل پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ فٹبال کا حسن تماشائیوں کی موجودگی سے بڑھتا ہے، تاہم کھلاڑی اپنا بہترین دینے کے لیے پرعزم ہیں اور فیلڈ پر مکمل توجہ رکھیں گے۔محیب اللہ و وقار کے مطابق کوچنگ اسٹاف کی منصوبہ بندی، تربیتی کیمپ کی سختی اور فٹنس پروگرام نے ٹیم کو مقابلہ کے لیے بہتر شکل دی ہے اور امید ہے کہ وہ یہ تیاریاں میدان میں مثبت نتیجے میں بدل سکیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے