مسٹر شنید قریشی نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفٰی کمال کو ماڈل نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے قیام اور اس کے آپریشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، جس میں ادارے کی تربیتی پالیسی، نصاب کی تشکیل اور طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر سیکریٹری، خصوصی سیکریٹری، اضافی سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری برائے انتظامات بھی موجود تھے اور بریفنگ میں فعال حصہ لیا۔بریفنگ کے دوران نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے زیرِ غور نکات میں شعبہ نرسنگ کی بہتری، عالمی معیار کے نرسنگ ادارے قائم کرنے کے اہداف، جدید نصاب کی تیاری اور تربیت یافتہ فیکلٹی کی دستیابی شامل تھیں۔ ادارتی ڈھانچے، تربیتی ورکشاپس اور کلینیکل ٹریننگ کے طریقہ کار پر تفصیل سے بات کی گئی تاکہ معیاری تربیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ملاقات میں طالب علموں کے رہائشی اور تعلیمی سہولتوں، لیبارٹریز اور عملی مشقوں کی فراہمی پر بھی بات ہوئی تاکہ نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے طلبہ کو بہتر تربیت اور عملی تجربہ میسر ہو۔ فیکلٹی کی بھرتیوں، تربیتی کورسز اور بین الاقوامی معیار کے نصاب کو مقامی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے امکانات تشریح کیے گئے۔وفاقی وزیر صحت نے نرسنگ کی ترقی کو ترجیح قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ماڈل کے اطلاق کے لیے جامع سفارشات مرتب کریں اور جلد از جلد عملدرآمد کے لائحہ عمل تیار کریں۔ وزیر نے کہا کہ نرسنگ شعبے کی مضبوطی سے صحت کے معیار میں بہتری آئے گی اور اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔متعلقہ حکام نے کہا کہ سفارشات میں نصاب کی اپڈیٹ، فیکلٹی کی تربیت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور طلبہ کے لیے وظائف و سہولتوں کے معاملات شامل ہوں گے تاکہ یہ ماڈل تیزی سے قابلِ عمل بنایا جا سکے اور ملک میں نرسنگ کی معیاریت کو فروغ ملے۔
