لاپتہ افراد کمیشن کے فیصلوں پر سخت تنقید

newsdesk
3 Min Read
ادارہ دفاعِ انسانی حقوق نے لاپتہ افراد کمیشن کے 770 کیسز خارج کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ سماعت کا مطالبہ کیا ہے

آمنہ مسعود جنجوعہ، چیئر پرسن ادارہ دفاعِ انسانی حقوق، نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حالیہ عرصے میں ٹوکریوں کے حساب سے کیسز خارج کر دینے سے حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف سے محروم کیا جا رہا ہے اور جبری گمشدگیاں روکنے کی کوششیں ناکامی کا شکار ہیں۔آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے گذشتہ دس ماہ میں سات سو بہتر شکایات اپنے ریکارڈ سے خارج کر دی ہیں جبکہ ادارہ دفاعِ انسانی حقوق دو دہائی سے اس جرم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی جدوجہد اور عدالتوں میں دائر کیے گئے سات سو پچاس سے زائد مقدمات کے نتیجے میں ریاست نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں جبری گمشدگیاں ایک حقیقت ہیں، جس کی وجہ سے 2010 اور 2011 میں متاثرین کی داد رسی کے لیے کمیشن قائم کرنا پڑا۔آمنہ مسعود جنجوعہ نے لاپتہ افراد کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اسی وجہ سے کئی سماجی اور قانونی حلقے برسوں سے اس ادارے کے خاتمے اور کسی بہتر فریم ورک کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک بہتر فریم ورک نہیں بنتا اس وقت تک کمیشن کو اپنا کام ایمانداری سے جاری رکھنا ہو گا اور خارج کیے گئے کیسز کی دوبارہ سماعت شروع کرنی چاہیے۔پریس کانفرنس میں ممتاز سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ اور ایمان مزاری بھی موجود تھیں۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ سینکڑوں مظلوم خاندانوں کی آواز دبا کر حقیقت نہیں بدل سکتی اور ٹوکریوں کے حساب سے کیسز خارج کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی، اور بتایا کہ اقوامِ متحدہ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان اخراجات کا نوٹس لیا اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ادارہ دفاعِ انسانی حقوق نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے امور میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کو اپنے اختیارات کا بے ضابطہ استعمال ترک کرنا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا تاکہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق کا تقاضا پورا ہو سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے