اسلام آباد میں جمعرات کو وزیر مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے ترکی کے سفیر عرفان نزیروغلو سے اپنے دفتر میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، مذہبی اور ثقافتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر مذہبی امور نے اس موقع پر دونوں ملکوں کے دیرینہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات پر زور دیا اور کہا کہ یہ رشتے محض سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ اقدار، روحانی ورثے اور صوفی بزرگوں کی تعلیمات کے ذریعے عوامی سطح پر بھی مضبوط ہیں۔
ملاقات میں ڈاکٹر عبدالرحمن اککوش، مذہبی امور اٹیچ، سالیحہ تونا تیکا پاکستان کی سربراہ اور ترک ہلالِ احمر کے نمائندے بھی شریک تھے۔ شرکاء نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، نوجوان نسل میں اعتدال اور رواداری کی تعلیم کے فروغ اور سیرتِ النبی کے پیغام کی اہمیت پر گفتگو کی۔ وزیر مذہبی امور نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں سیرتِ النبی کے مضامین کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو اخلاقی اقدار اور اعتدال کی طرف رہنمائی ملے۔
سردار محمد یوسف نے ترکی کی قیادت کی مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا اور پاکستان کی طرف سے امن کے اقدامات اور شراکتوں کے بارے میں ترک سفیر کو آگاہ کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو علاقائی استحکام کے فروغ میں مؤثر قرار دیا گیا۔ وزیر مذہبی امور نے باہمی تعاون کے وسیع امکانات، ثقافتی تبادلے اور مذہبی امور میں مشترکہ پروگرامز کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سفیر عرفان نزیروغلو نے پاکستان اور ترکی کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو دونوں ممالک کا قیمتی اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ ترکی پاکستان کی قومی استحکام اور ترقی کو برادرِ عالمِ اسلام کی مضبوطی سمجھتا ہے۔ ترک وفد کے نمائندوں نے بتایا کہ ترکی نے ملک بھر میں سات سو سے زائد فلاحی اور ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں اور وہ اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ترکی کے نمائندوں نے مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم دہرایا اور اس تعاون کو بھائی چارے اور ذمہ داری قرار دیا۔ بات چیت کے اختتام پر دونوں فریقین نے حکومتی سطح اور عوامی رابطوں کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے، ترقی و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر مذہبی امور نے ملاقات میں اٹھائے گئے نکات کے تناظر میں آئندہ مشترکہ کوششوں کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
