سماجی رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے مردوں کے عالمی دن 19 نومبرت پر کہا کہ معاشرے اور گھر میں مرد کا کردار ناقابلِ نظر انداز ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس دن کا مقصد مردوں کی خدمات، تجربات اور قربانیوں کو تسلیم کرنا اور اُن کی صحت و فلاح کے مسائل پر توجہ دلانا ہے۔ اس موقع پر عامر صدیقی نے زور دیا کہ "مرد کی اہمیت” کو عام سطح پر تسلیم کیا جائے۔عامر صدیقی نے بتایا کہ باپ، بھائی، بیٹا اور شوہر ہر صورت میں اپنے خاندان کے لیے ستون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں مرد کے اس مضبوط سایبان کی قدر کی جانی چاہیے اور انہیں عزت و وقار دینا ہر رشتے دار کی ذمہ داری ہے۔ معاشرے میں مرد اور عورت دونوں کی اہمیت ناقابلِ تردید ہے اور ہر ایک اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔مردوں کی صحت کے حوالے سے عامر صدیقی نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ طویل محنت، کاروباری یا ملازمت کے دباؤ اکثر مردوں کو بیمار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرد اپنی صحت کی غفلت، وقت پر غذا اور ادویات نہ لینے کی وجہ سے کمزور پڑ جاتے ہیں، اس لیے "مرد کی اہمیت” کے تناظر میں ان کے طبی مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔سماجی رہنما نے یہ بھی کہا کہ گھریلو جھگڑوں میں صرف مرد ہی مظلوم نہیں رہتے بلکہ بعض اوقات عورت بھی مرد پر تشدد کرتی ہے اور مردوں کو بھی ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالات کے جبر کو اکثر مرد تنہا برداشت کرتے ہیں اور معاشرتی سطح پر اس پہلو پر بات کم ہوتی ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ گھریلو ماحول میں مردوں کے حقوق اور عزت کا خاص خیال رکھیں تاکہ گھریلو ہم آہنگی قائم رہے۔آخری طور پر عامر صدیقی نے معاشرے سے اپیل کی کہ مردوں کی خدمات، اُن کی محنت اور قربانیوں کو نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ عملی طور پر ان کی صحت اور وقار کے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم "مرد کی اہمیت” کو سمجھیں تو خاندان اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوں گے۔
