اسلام آباد میں پی ایم ڈی سی کے باہر میڈیکل طلبہ کا احتجاج، ’’غیر منصفانہ‘‘ تعلیمی پالیسیوں کی واپسی کا مطالبہ
ندیم تنولی
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مرکزی دفتر کے باہر ملک بھر سے آئے میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی نے بغیر کسی مشاورت کے اچانک نئی تعلیمی پالیسیاں نافذ کر کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ مظاہرے کا انعقاد دی میڈوائس (The MedVoice)، اسلامی جمعیت طلبہ اور پریمَیٹِک یوتھ کی جانب سے کیا گیا۔
طلبہ نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم بی بی ایس امتحانات میں پاسنگ مارکس کو 50 فیصد سے بڑھا کر 65 فیصد اور حاضری کی شرح کو 75 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد کر دیا گیا ہے، جو نئے طلبہ کے لیے ناقابلِ برداشت دباؤ پیدا کر رہا ہے۔ طلبہ کے مطابق یہ اچانک تبدیلیاں نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ مختلف بیچز کے درمیان عدم مساوات بھی پیدا کر رہی ہیں۔ مظاہرین نے ان پالیسیوں کو ’’تعلیم دشمن‘‘ اور ’’طلبہ مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب شمالی کے ناظم احمد عبداللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے اقدامات نے تعلیمی توازن اور شفافیت کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب سینئر طلبہ 50 فیصد پر پاس ہو کر ڈاکٹر بن سکتے ہیں تو پہلے سال کے طلبہ پر 65 فیصد کی شرط کیوں؟‘‘ انہوں نے زور دیا کہ پی ایم ڈی سی کو فیصلہ سازی کی کمیٹیوں میں طلبہ نمائندگان کو شامل کرنا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس نے پُرامن احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور متعدد طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین کے مطابق ان کا کچھ ذاتی سامان تاحال پولیس کی تحویل میں ہے۔ اس کے باوجود طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ ان کا احتجاج پُرامن رہا اور اس کا مقصد صرف اپنے مطالبات حکام تک پہنچانا تھا۔
طلبہ رہنماؤں نے پی ایم ڈی سی کو دس روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔ احمد عبداللہ نے کہا، ’’ہم نے انہیں وقت دیا ہے تاکہ اپنی غلطی درست کریں، بصورتِ دیگر جمعیت ملک گیر احتجاج کرے گی۔‘‘
طلبہ نے واضح کیا کہ وہ اصلاحات کے مخالف نہیں، بلکہ منصفانہ اور حقیقت پر مبنی تبدیلیوں کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ معیارِ تعلیم بہتر بنانے کے لیے پہلے نصاب کو جدید بنائے اور اساتذہ کی تربیت پر توجہ دے، بجائے اس کے کہ طلبہ پر غیر حقیقی شرائط مسلط کی جائیں۔ اچانک تبدیلیوں سے نہ صرف طلبہ کا حوصلہ ٹوٹتا ہے بلکہ کئی باصلاحیت طلبہ پیشۂ طب سے بددل ہو سکتے ہیں۔
News Link: Students Rally Against PMDC Policy Changes – Peak Point
