ادارہ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور ڈیجیٹل ڈیبیٹ کی مشترکہ میزبانی میں "مارکہِ حق” کی پہلی سالگرہ پر سیمینار منعقد ہوا جس میں ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات اور ماہرین نے امن و سلامتی، معلوماتی محاذ اور سفارتی حکمت عملیوں پر گفتگو کی۔وفاقی اطلاعات کے وزیر عطااللہ تارڑ مہمانِ خصوصی تھے جبکہ سابق وزیرِ خارجہ سفیر جلیل عباس جیلانی مہمانِ اعزازی کے طور پر شریک ہوئے۔ شرکائے تقریب میں سفیر خالد محمود چئرمین ادارہ، سفیر طاہر حسین اندرابی، ایئرمارشل ریٹائرڈ فاروق حبیب سابق وائس چیف پاک فضائیہ، معروف مصنفہ و اینکر نسیم زہرہ، ڈاکٹر خرم عباس ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سنٹر اور دفاعی تجزیہ کار احمد حسن العربی شامل تھے۔چئیرمین ادارہ نے کہا کہ مئی کا مہینہ پاکستان کی اسٹریٹجک تاریخ میں بارہا فیصلہ کن رہا ہے اور گزشتہ مئی کی صورتِ حال نے محاذی کامیابی کو سفارتی اور اطلاعاتی حکمت عملی کے ساتھ جوڑ کر ملک کی پختہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مسلح افواج، سفارت کاری، میڈیا اور اسٹریٹجک ماہرین کی مشترکہ کوششوں کو جھوٹے بیانیوں کے خلاف مؤثر قرار دیا اور اس کامیابی کو طویل المدتی ادارہ جاتی و اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی اطلاعات کے وزیر نے بھارتی جانب سے بے بنیاد الزامات اور مبینہ جعلی کاروائیوں پر سخت تنقید کی، بتایا کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر دی گئی جبکہ شفاف اور مشترکہ تفتیش کی پاکستانی پیشکش کا کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حقائق پر مبنی عالمی میڈیا اور سفارتی فورمز کے ذریعے اپنی روایت مؤثر انداز میں پیش کی اور نوجوانوں کی شمولیت کی بدولت معلوماتی محاذ پر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔سابق وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 2014 سے بھارت کی جارحیت میں اضافہ ہوا اور ماضی کے واقعات کے پیٹرن سے ملتے جلتے الزامات سامنے آئے، تاہم عالمی برادری نے ان بیانیوں کو مکمل قبولیت نہیں دی، خاص طور پر جب تشویشیں بھارت کی سرحد پار کارروائیوں اور انتہاپسندی کے متعلق بڑھیں۔ انہوں نے دریائے سندھ کے معاہدے کی معطلی کے فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر باعثِ تشویش قرار دیا اور پانی کے ایشو کا بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی۔ڈاکٹر خرم عباس نے مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مئی کا تنازع پاکستان پر مسلط کیا گیا مگر ردِ عمل نے یہ پیغام دیا کہ دباؤ و دھمکی کو بطور خارجہ پالیسی قبول نہیں کیا جائے گا، اور جموں و کشمیر کے مسئلے کی مرکزیت نے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ کو واضح رکھا۔سفیر طاہر اندرابی نے گفتگو میں بتایا کہ پاکستانی سفارت کاری نے عالمی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کی، وزیرِ اعظم کی مشترکہ تفتیش کی پیشکش اور دو ہفتوں میں ساٹھ دارالحکومتوں سے براہِ راست رابطے نے پاکستان کے بیانیے کو تقویت پہنچائی اور عسکری کامیابی کو سفارتی سرمائے میں تبدیل ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ایئرمارشل فاروق حبیب نے محاذی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاک فضائیہ نے بحریہ اور آرمی کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی مرتب کی تاکہ تکنیکی اور حربی برتری کو اسٹریٹجک فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے مستقبل میں جنگ کی نوعیت میں تبدیلی، بے پائلٹ طیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا اور ہوشیاری کی ضرورت پر اصرار کیا۔نسیم زہرہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی سطح پر بھارت کی ہیکیمونی کے مقابلے میں مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے، چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور مغربی ایشیا میں توسیع پذیر روابط نے پاکستان کو ایک ذمہ دار سفارتی کھلاڑی کے طور پر ظاہر کیا ہے۔احمد حسن العربی نے معلوماتی محاذ کی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ موبائل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور کھلے ذرائع سے موصولہ معلومات نے اب طاقت کے نئے ستون قائم کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی پروپیگنڈا بڑی حد تک حق و باطل ملا کر معلوماتی خلا پیدا کرتا ہے، مگر پاکستانی طرزِ عمل نے شفافیت اور فوری رابطے کو مقدم رکھا جس سے نوجوان ڈیجیٹل جنگجوؤں نے میمز اور مزاح جیسی تخلیقی حکمتِ عملیاں اختیار کر کے دنیا بھر میں بیانیہ مسابقت میں حصہ لیا۔تقریب کے آخر میں شرکائے تقریب نے عالمی مباحثے میں پاکستان کی محنت، فوجی پیشہ ورانہ مہارت اور نوجوان قوت کا اعتراف کیا اور مشترکہ تصویر کے ساتھ اس پروگرام کا اختتام ہوا۔
