اسلام آباد میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مابین مارگلہ آرچرڈ پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے سہ فریقی ڈویلپمنٹ معاہدے پر باضابطہ دستخط 26 ستمبر 2025 کو ہوئے۔ اس موقع پر سیکٹر جی پانچ واقع نجی ہوٹل کے آصفہ جہانگیر آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں سرکاری اور پیشہ ور حلقوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میان ریاض حسین پیرزادہ نے تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور ہاؤسنگ اتھارٹی کے حکام، ملازمین اور الاٹیز کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بھی شرکت کی اور وکلا برادری کے لیے اس اقدام کو ایک تاریخی اور خوش آئند قدم قرار دیا۔ شرکائے تقریب نے معاہدے کو آئندہ کے مثبت نتائج کا موجب بتایا۔مارگلہ آرچرڈ پارک منصوبے کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال نے کہا کہ وفاقی ملازمین کے حقوق محفو ظ رہیں گے، خصوصاً وہ لوگ جنہیں پہلے ہی پلاٹ الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی ہمیشہ سرکاری ملازمین اور معاشرے کے دیگر طبقات کو معیاری اور قابلِ استطاعت رہائشی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یہ سہ فریقی معاہدہ اسی تسلسل کی اہم کڑی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے اظہارِ امید کیا کہ منصوبے کی تکمیل الاٹیز کے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرے گی اور اسلام آباد میں معیاری رہائشی سہولتوں کے فروغ میں مدد دے گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں ہاؤسنگ اتھارٹی سیکٹر ایف چودہ، سیکٹر ایف پندرہ اور لائف اسٹائل ریزیڈنسی سیکٹر جی تیرہ میں بھی ترقیاتی کام باقاعدگی سے شروع کر دے گی۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ آج کا معاہدہ منصوبے کے عملی آغاز کی طرف ایک نہایت اہم قدم ہے اور اس کے بعد ادارتی منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت متوقع ہے۔تقریب میں شریک وکلا نے ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیصلے کو سراہا اور اسے ایک مثبت و دیرپا حل قرار دیا جو وکلا اور دیگر متعلقہ فریقین کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا۔ شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ منصوبے کے شفاف اور بروقت مکمل ہونے سے اسلام آباد میں رہائشی معیار بہتر ہوگا اور الاٹیز کو بروقت سہولتیں میسر آئیں گی۔مجموعی طور پر اس روز کے معاہدے نے ہاؤسنگ سیکٹر میں تعاون اور اشتراکِ عمل کی واضح علامت قائم کی اور حکام نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ بھی ایسے مشترکہ اقدامات کے ذریعے عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔
