مغرب میں پارلیمانی روابط کے فروغ پر مشاورت

newsdesk
2 Min Read
مسیبہ کھر نے مراکش فورم کے موقع پر پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور تعاون، ڈیجیٹل اصلاحات اور نوجوانوں کے کردار پر گفتگو کی۔

مراکش میں منعقد ہونے والے چوتھے پام مراکش اقتصادی پارلیمانی فورم کے موقع پر پاکستان کی جانب سے پارلیمانی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے اہم رابطے کیے گئے۔ سینیٹ کے چیئرمین کی مشیر اور بین الاقوامی پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی سفیر مسیبہ کھر نے مختلف پارلیمانی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور خطے میں پارلیمانی اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مسیبہ کھر نے مراکش کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر سے ملاقات میں پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے، اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، ڈیجیٹل تبدیلی، معاشی ترقی اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے امور پر بات کی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا گیا کہ پارلیمانی سطح پر رابطے نہ صرف سیاسی سمجھ بوجھ کو بہتر بناتے ہیں بلکہ معاشی اور سماجی تعاون کے نئے دروازے بھی کھولتے ہیں۔انہوں نے بحیرہ روم کی پارلیمانی اسمبلی اور دیگر ممالک کے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں پارلیمانی سفارت کاری، مصنوعی ذہانت، پائیدار ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری کے موضوعات زیر بحث آئے۔ ان مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پارلیمانوں کا کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں رہا بلکہ اقتصادی شراکت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں بھی ان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔مسیبہ کھر نے ملاقاتوں کے دوران سینیٹ آف پاکستان کی ڈیجیٹل جدید کاری کے اقدامات بھی اجاگر کیے، جنہیں شرکا نے سراہا۔ مختلف مندوبین نے پاکستان کے بین الاقوامی پارلیمانی فورمز میں فعال کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ان ملاقاتوں کو پاکستان کے لیے پارلیمانی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کے فروغ کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پارلیمانی روابط کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے