وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اسلام آباد میں کوریا پاکستان تعلیمی راہداری کی نمائش کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی افرادی قوت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم اور مہارت سازی نوجوانوں کو عالمی سطح پر مواقع حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیمی راہداری جیسے اقدامات بہت معنی خیز ہیں۔وزیر نے جمہوریہ کوریا کے شاندار ترقیاتی سفر کو ایک مثبت نمونہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس سے اہم اسباق حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شراکت داری مضبوط ہونے سے پاکستانی طلبہ کے لیے نئے راستے کھلیں گے اور ایک ہنر مند افرادی قوت کی تعمیر میں مدد ملے گی جو بین الاقوامی تقاضوں کا جواب دے سکے۔کوریا پاکستان تعلیمی راہداری کو کنسورشیم برائے مطالعۂ ایشیا پیسیفک و یورو ایشیا نے متعارف کرایا ہے جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، علمی تبادلے، مہارت سازی اور طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت کو فروغ دینا ہے۔ یہ تعلیمی راہداری مختلف اقدامات کے ذریعے دوطرفہ تعلیمی تعاون کو فعال کرے گی اور طلبہ کے لیے عملی تربیت کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔افتتاحی تقریب میں سفارتکاروں، تعلیمی رہنماؤں اور عالمِ ابلاغ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سفیر سید معظم ایچ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیول میں پاکستانی سفارت خانے نے پائیدار تعلیمی راہداری قائم کرنے کے لیے اہم کوششیں کی ہیں، جس کے تحت لاہور میں چار کوریائی زبان کے مراکز قائم ہو چکے ہیں اور اسلام آباد میں بھی ایسے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے تاکہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ روابط کو تقویت ملے۔پروفیسر ڈاکٹر چوئی جونگ اِن صدر ٹونگ ون یونیورسٹی نے پاکستانی طلبہ میں کوریائی اعلیٰ تعلیم میں بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کیا اور یونیورسٹی کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض طلبہ کو داخلہ حاصل ہونے کے باوجود ویزا مسائل کا سامنا رہا ہے اور اس سلسلے میں آگے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ علمی نقل و حرکت میں آسانی ہو۔پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے مشرقی تہذیب کو علم و فہم کا مرکز قرار دیتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے نظریات کو وسیع کریں اور اپنی تعلیم کو عالمی ذمہ داریوں کے مطابق ڈھالیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی راہداری ایسے وژن کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوگی جو سماج اور انسانیت کے لیے مفید ہو۔کنسورشیم کے صدر ڈاکٹر خرم اقبال نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اکیسویں صدی میں تعلیمی اختراع اور ٹیکنالوجی کے مراکز ایشیا کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جہاں کوریا اور جاپان جیسے ممالک ٹیکنالوجی، صنعت اور تحقیق میں سرِ فہرست آ چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے ان ممالک میں تعلیم اور تحقیقی مواقع کی طرف توجہ دلائی۔تقریب کی میزبانی کنسورشیم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عمیر پرویز خان نے کی اور آخر میں شرکاء نے تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، علمی تبادلوں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے آئندہ نسلوں کو بااختیار بنانے کے لیے مربوط اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر واضح طور پر کہا گیا کہ تعلیمی راہداری سے طلبہ کی موبلٹی، تکنیکی تربیت اور دوطرفہ مفادات کو فروغ ملے گا جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔
