وزیراعلیٰ کا اپریل کے پرامن احتجاج کا اعلان

newsdesk
7 Min Read
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 9 اپریل کو یک روزہ پرامن احتجاج کا اعلان کیا اور ملکی معاشی و سیاسی بحران پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پورے ملک کو 9 اپریل 2022 سے 9 اپریل 2026 تک کے عرصے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے تاکہ واضح ہو کہ ملک کس راستے پر گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل 2022 کو جمہوری حکومت کو بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے تحت ہٹایا گیا جس کے بعد ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر اس چار سالہ مدت میں معاشی نمو بہتر ہوتی، زرعی، صنعتی اور برآمدی شعبے مستحکم رہتے اور سرمایہ کار مطمئن ہوتے تو صورتحال قابل قبول ہوتی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد رہ گئی ہے جبکہ ملک کی چونتیس فیصد کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے اور عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے پٹرول کی قیمتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فی لیٹر قیمتیں 150 روپے سے بڑھ کر بعض مرحلوں پر 380 سے 458 روپے تک پہنچ گئیں جبکہ آمدن میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ زرمبادلہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بظاہر ذخائر 21 ارب ڈالر دکھائے جا رہے ہیں مگر وہ قرض اور عارضی سہارا ہیں، تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ اگر دوست ممالک نے اپنی رقوم کی واپسی کا تقاضا کیا تو ذخائر 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے جا سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات روپے کی قدر میں کمی اور بیرونی قرضوں میں بے تحاشا اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے پاس واضح پالیسی یا موثر اصلاحاتی ایجنڈا نہیں ہے اور ان کی پوری توجہ صرف اقتدار کے تحفظ اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے پر مرکوز ہے، جس کے باعث ملک ترقی کے قابل نہیں رہا۔عوام خصوصاً غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ کھل کر موجودہ پالیسیوں کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی، آزاد عدلیہ اور آزاد صحافت کے لئے پرامن احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف 9 اپریل احتجاج کے طور پر لیاقت باغ میں ایک روزہ پرامن مظاہرہ کرے گی تاکہ دنیا کے سامنے اس حقیقت کو رکھا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ 9 اپریل احتجاج ایک روزہ سرگرمی ہوگی اور ان کا قافلہ صبح 11 بجے پشاور سے روانہ ہوگا، راستے میں آنے والے اضلاع کے قافلے اس میں شامل ہوں گے۔ اگر حکومت جلسے کی اجازت نہ دے تو جہاں کارکنوں کو روکا جائے گا وہاں احتجاج کیا جائے گا اور ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کارکنوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا گیا یا حالات بگڑے تو مستقبل کے لائحہ عمل پر، بشمول لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج، غور کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت مون سون کی بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات کے مقابلے کے لئے جنوری سے کنٹنجنسی پلان پر کام کر رہی ہے اور تمام متعلقہ محکمے متحرک ہیں تاکہ فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ واحد ہے جس نے بروقت تیاری کر کے اداروں کو حرکت میں لایا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ مل سکے۔آپریشنز کے بارے میں ان کا موقف واضح تھا کہ طاقت کے استعمال سے پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں 22 بڑے آپریشنز اور سولہ ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشتگردی ختم نہیں ہو سکی، لہٰذا مسئلے کا حل جامع سیاسی اور سماجی حکمت عملی میں ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔ خاص طور پر وادی تیراہ میں برف باری کے دوران آپریشن کے اعلان پر انہوں نے بارہا تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگوں کو دو ماہ میں واپس بھیجنے کے وعدے حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے وہاں کے نوجوانوں کو نظام کا حصہ بننے کا موقع ملا اور امید کی نئی فضا پیدا ہوئی، مگر اگر انضمام کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کیے گئے تو اس کے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ملکی سیاسی صف بندی کے حوالے سے کہا کہ بعض عناصر ملک میں انتشار چاہتے ہیں تاکہ غیرجمہوری قوتیں برقرار رہ سکیں، اس سوچ کو مسترد کیا جاتا ہے اور پاکستان تحریک انصاف آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے جدوجہد جاری رکھے گی۔آخر میں وزیراعلیٰ نے ایک کھلا چیلنج دیا کہ جو عناصر دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف یا اس کے نظریے کا خاتمہ ہو گیا، وہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں آ کر عوامی طاقت کا مقابلہ کریں، انہیں نہ صرف جلسے کی اجازت دی جائے گی بلکہ اسٹیج اور سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، اور مطالبہ کیا کہ دیگر صوبوں میں بھی یکساں سیاسی میدان فراہم کیا جائے تاکہ عوامی حمایت کا حقیقی اظہار سامنے آئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے