اسلام آباد (ندیم تنولی) پاکستان کی معروف ٹیلی کام کمپنی جاز پر صارفین سے 6.58 ارب روپے سے زائد اضافی رقم لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی منظور شدہ قیمتوں سے زیادہ وصولیاں کیں، جبکہ پی ٹی اے کی نگرانی پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جاز نے کئی مقبول موبائل پیکجز کی قیمتیں خود ہی بڑھا دیں اور کروڑوں صارفین سے اربوں روپے اضافی وصول کیے۔ کمپنی نے نہ صرف قیمتوں کے منظور شدہ ڈھانچے کو نظرانداز کیا، بلکہ پی ٹی اے کی جانب سے نگرانی کے فقدان کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق، قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پیکجز میں ’’منتھلی یوٹیوب اینڈ سوشل آفر‘‘ سرفہرست رہا، جس کے صارفین سے 348 روپے کی جگہ 434 روپے وصول کیے گئے اور اس اضافہ سے 2.1 ارب روپے اضافی جمع ہوئے۔
اسی طرح، ’’منتھلی میکس پیکج‘‘ میں 1.165 ارب روپے، ’’ویکلی سپر میکس‘‘ میں 1.158 ارب روپے، ’’منتھلی سپر ڈوپر‘‘ میں 72 کروڑ اور ’’منتھلی فریڈم پیکج‘‘ میں 62 کروڑ روپے سے زائد اضافی وصول کیے گئے۔ ان کے ساتھ ’’ویکلی فریڈم پیکج‘‘ سمیت کل اضافی وصولی تقریباً 6.583 ارب روپے تک جا پہنچی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں نہ صرف صارفین کو پہنچنے والے مالی نقصان کی نشاندہی کی گئی، بلکہ پی ٹی اے کی کارکردگی پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری ادارہ اپنی ذمہ داری نبھانے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا۔
اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جاز کی جانب سے غیرقانونی وصولیوں اور پی ٹی اے کی نگرانی میں کوتاہی پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور مکمل احتساب کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
ان انکشافات کے بعد پی ٹی اے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی نااہلی کی وضاحت پیش کرے۔ صارفین کے حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں مضبوط نگرانی اور موثر قوانین کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں لاکھوں لوگ اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے موبائل پیکجز پر انحصار کرتے ہیں۔ اربوں روپے کی مبینہ اضافی وصولیوں کے اس اسکینڈل سے جاز اور پی ٹی اے دونوں ادارے کڑی جانچ پڑتال کی زد میں ہیں اور اس سے شفافیت اور صارفین کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

