اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ کے اندر حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل اور مذمت سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جبکہ قطر کے وزیراعظم نے اس کارروائی کو "ریاستی دہشت گردی” قرار دے کر جوابی حقوق کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھی دوحہ کی خودمختاری کے تحفظ اور قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست پاکستان اور الجزائر سمیت کئی ممالک نے کی ہے اور اجلاس میں خطے میں حالیہ کشیدگی اور دوحہ میں ہونے والے حملے کے اثرات پر غور کیا جائے گا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اجلاس میں واقعے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور خطے میں امن و استحکام کو لاحق خطرات کے بارے میں بحث متوقع ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوحہ میں ہونے والے حملے کو "ریاستی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطری حکومت اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی اور ایسے اقدامات کا سخت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ انہوں نے قطری ثالثی کے کردار کو جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ خطے کے مسائل میں ثالثی قطر کی شناخت کا حصہ ہے، تاہم غیر ضروری حملوں کے خلاف خاموش نہیں رہا جائے گا۔
قطری وزیراعظم نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ قطر اس واقعے کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اس حملے کے پس پردہ مقاصد پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ خطے میں نئی ترتیب کے ضمن میں خلیج کے معاملات کو بھی متاثر کیا جا سکتا ہے اور پورے خطے سے مضبوط ردعمل کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دوحہ پر حملے کی سخت مذمت کی، قطری عوام اور شاہی خاندان کے ساتھ گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو بزدلانہ اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور امت مسلمہ سے اتحاد کا عہد کرنے پر زور دیا گیا۔ امیر قطر نے پاکستانی اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و امان کے فروغ کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر پر حملے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کا تھا اور وہ خود اس کارروائی سے خوش نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے نتن یاہو اور امیر قطر دونوں سے بات کی اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ایسی کارروائی دوبارہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک خودمختار اتحادی ملک پر بمباری نہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی اسرائیل کے۔
امریکہ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ امریکی ایلچی نے قطر کو متوقع کارروائی سے آگاہ کیا تھا، تاہم قطری حکومت نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع تب ملی جب دھماکے دوحہ میں سنائی دے رہے تھے۔ اس تنازع نے بین الاقوامی رابطوں اور اعتماد کے مسئلے کو مزید اجاگر کیا ہے۔
حملے میں حماس کے مطابق ان کے پانچ ارکان مارے گئے جن میں غزہ کے جلاوطن رہنما خلیل الحیہ کے صاحبزادے بھی شامل ہیں۔ اس اقدام پر مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر شدید مذمت ہوئی ہے اور واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے قطر پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور قطری خودمختاری و علاقائی سالمیت کی اس صریح خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مستقل جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کرنے اور صورتحال کو مزید خراب نہ کرنے کی اپیل کی۔
اس واقعے کے فوری اثروں میں عالمی توانائی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 35 سینٹ (0.53 فیصد) اضافے کے ساتھ 66.74 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ میں 36 سینٹ (0.57 فیصد) اضافہ ہو کر 62.99 ڈالر فی بیرل تک پہنچی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی ردعمل میں قیمتیں دو فیصد تک بڑھ گئیں مگر بعد ازاں بعض بین الاقوامی یقین دہانیوں کے بعد مارکیٹ کا ردعمل محدود رہا۔
