محمد عامر صدیقی نے کہا کہ اسلام بھائی چارے اور اخوت کا دین ہے اور رشتوں کو عظمت سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماں، باپ، بہن اور بھائی جیسے رشتے محبت، قربانی اور جذبے کی مثال ہیں، اور اسلامی تعلیمات میں بھائی کا مقام انتہائی بلند ہے۔محمد عامر صدیقی نے اس موقع پر عالمی برادر ڈے کی مناسبت سے بتایا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کو اپنا بھائی قراردیا اور وہ اس عظیم رشتے کو بھرپور انداز میں نبھانے کی شاندار مثال ہیں۔ بھائی ایک ایسا پاک اور قریب ترین رشتہ ہے جو دکھ درد میں پہلے محسوس کرتا اور مشکل وقت میں اپنی توانائیاں بروئے کار لا کر بھائی کی مدد کرتا ہے۔عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر عامر صدیقی نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں بہت سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کریں اور عید کی خوشیوں میں سب کو شامل کریں تاکہ خوشیاں بانٹی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عید کی خوشیوں میں سب کا شریک ہونا سب سے بہترین عید ہوگی۔انہوں نے قائداعظم کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ قیام پاکستان کے مشن میں پیش پیش رہیں اور بعد از وفات انہوں نے تعمیرِ پاکستان میں بہتر انداز سے حصہ لیا۔ اس تناظر میں بھائی چارے اور قومی خدمات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔غزہ اور فلسطین میں مسلمانوں کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے عامر صدیقی نے کہا کہ وہاں کے بھائی اسرائیلی جارحیت اور بربریت کا شکار ہیں اور امت مسلمہ ان کی تباہ حالی سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ غزہ و فلسطین کے لیے پائیدار حل کے سلسلے میں عملی کردار ادا کریں تاکہ وہاں کے مظلوم بھائیوں کو ریلیف پہنچ سکے۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عالمی برادر ڈے کے موقع پر بھائی چارے کے جذبے کو عملی شکل دیں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور عید کی خوشیوں کو مل کر بانٹیں تاکہ معاشرے میں اتحاد اور ہمدردی کا پیغام مضبوط ہو۔
اسلامی بھائی چارہ اور عالمی برادر ڈے کی اہمیت
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
