انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مرکز برائے اسٹریٹجک تناظر میں اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیب کے ہائی ریپرزینٹیٹو اور اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سید میگویل آنخل موراتینوس نے عوامی گفتگو کی۔ اس نشست میں عالمی سطح پر مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر نیلم نگار نے کہا کہ اتحادِ تہذیب کا کام آج بھی اسی طرح اہم ہے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی، بین المذاہب ہم آہنگی، تعمیری بین الاقوامی روابط اور تمام مذاہب و تہذیبوں کے احترام کے موقف کا حامی رہا ہے، اس لیے مذہبی ہم آہنگی سے متعلق عالمی کوششیں پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔استقبالیہ خطاب میں سفیر خالد محمود نے کہا کہ دنیا اس وقت شناختی بنیادوں پر تقسیم، مذہبی عدم برداشت، نفرت انگیز تقاریر، شدت پسندی اور تعمیری مکالمے کے کم ہوتے دائرے جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسلاموفوبیا ان رجحانات کی سب سے سنگین صورتوں میں سے ایک بن چکا ہے اور یہ محض امتیازی سلوک تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ انسانی وقار، مساوات، مذہبی آزادی اور پرامن بقائے باہمی کے لیے عالمی چیلنج بن گیا ہے۔انہوں نے مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی منفی بیان بازی، عبادت گاہوں پر حملوں اور امتیازی بیانیوں کی طرف توجہ دلائی اور بھارت کی صورت حال اور غزہ کے انسانی بحران کو ایسے واقعات قرار دیا جنہوں نے مذہبی امتیاز اور عدم برداشت پر عالمی سطح پر تشویش پیدا کی۔ سفیر خالد محمود نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی یا انتہا پسندی سے جوڑنا درست نہیں اور نہ ہی کسی مذہبی برادری کو چند افراد کے اعمال کی بنیاد پر نفرت کا سامنا ہونا چاہیے۔انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یومِ انسدادِ اسلاموفوبیا کے قیام کے لیے نمایاں کردار ادا کیا اور خصوصی نمائندے کی تقرری کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق دیرپا امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب باہمی احترام، بین الثقافتی مکالمہ اور جامع شمولیت کو بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے اتحادِ تہذیب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ شدت پسندی کے مقابلے، تفہیم کے فروغ اور پرامن معاشروں کی تشکیل میں اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔اپنے کلیدی خطاب میں سید میگویل آنخل موراتینوس نے کہا کہ عالمی نظام ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جغرافیائی سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے، کثیرالجہتی اداروں پر اعتماد کم ہو رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے کی بحالی، کثیرالجہتی پر اعتماد کی تعمیر نو اور بین الثقافتی فہم کو مضبوط کرنا اب محض خواہش نہیں بلکہ امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور اس موقع پر سیاسی قیادت کو ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو ٹکراؤ کے بجائے تعاون کی راہ ہموار کریں۔ موراتینوس کے مطابق عالمی مباحثے میں اب زیادہ زور محدود سکیورٹی تصورات پر دیا جا رہا ہے، جبکہ پائیدار امن کا وسیع مقصد پس منظر میں جا رہا ہے۔ انہوں نے مسلسل تنازعات، بڑھتی معاشی ناہمواری، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو ایسے عوامل قرار دیا جو بین الاقوامی منظرنامے کو بدل رہے ہیں۔موراتینوس نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ اخلاقی، سماجی اور انتظامی نوعیت کے سنجیدہ سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں، جن کے لیے ذمہ دارانہ ضابطہ کاری اور عالمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، وبائیں، مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی جیسے مسائل سرحدوں کے پابند نہیں، اس لیے ان کا حل کسی ایک ملک کی سطح پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اکیسویں صدی کا اصل سوال یہ نہیں کہ ممالک ایک دوسرے سے کتنے آگے نکلتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان میں مشترکہ مسائل کے حل کے لیے سیاسی ارادہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی ہی ایسا قابلِ اعتماد فریم ورک ہے جو مشترکہ اقدام کو ممکن بناتا ہے، جبکہ مکالمہ اور بین الاقوامی تعاون زیادہ مستحکم، پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔ بڑھتی ہوئی تقسیم، مذہبی عدم برداشت، ثقافتی خلیج اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنوع کو اکثر تقسیم کی وجہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ انسانیت کی بڑی طاقت ہے۔ان کے مطابق شمولیتی معاشرے، جو تکثیریت، باہمی احترام اور بین الثقافتی مکالمے پر قائم ہوں، زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور تنازعات کو روکنے، انتہا پسندی کے مقابلے اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اتحادِ تہذیب کی مرکزی حیثیت کو دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان سمجھ بوجھ پیدا کرنا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے موراتینوس نے کہا کہ ملک اپنی جغرافیائی حیثیت، فعال سفارت کاری اور خطوں و تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت، امن مشنز میں شراکت اور کثیرالجہتی تعاون کے مسلسل عزم کو سراہا۔انہوں نے پاکستان کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سرزمین کی ثقافتی آمیزش اور مختلف تہذیبوں سے میل جول کی تاریخ مکالمے اور باہمی فہم کو فروغ دینے کے لیے قیمتی مثال فراہم کرتی ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات اور ابھرتے ہوئے کثیرقطبی عالمی نظام میں کثیرالجہتی کی تجدید ضروری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے ممالک کو جامع سفارت کاری، بین الثقافتی سمجھ بوجھ اور بین الاقوامی امن کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ مذہبی ہم آہنگی اور مکالمہ ہی اعتماد کی بحالی اور تقسیم کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
