بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ پروگرامز اور ورکشاپس پر اتفاق

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد میں ملاقات کے دوران بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد، 4 اگست 2026 — وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور تاریخی بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے بین الاقوامی مبلغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے اسکالر ڈاکٹر لیف ہیٹ لینڈ کے ہمراہ اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، رواداری کے استحکام اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو مذہب اور عقیدے کی تفریق کے بغیر مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے معاشرے میں امن، محبت اور احترام کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

سردار محمد یوسف نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیوں کو قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر دوبارہ فعال کیا گیا ہے تاکہ مختلف مذاہب کے علماء اور نمائندوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کے مذہبی تہواروں کو سرکاری سطح پر منانے، عبادت گاہوں کے تحفظ اور بحالی، اقلیتی طلبہ کے لیے خصوصی وظائف اور قومی بیانیہ ”پیغامِ پاکستان“ کے فروغ جیسے اقدامات بھی اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نفرت انگیز تقریر اور فرقہ واریت کی مؤثر روک تھام ہے۔

اس موقع پر مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اسلام کا بنیادی پیغام امن، سلامتی اور انسانیت سے محبت پر مبنی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کی دینی اور قومی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہا پسندی اور نفرت کے خاتمے کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان فہم و اعتماد کے پل تعمیر کریں۔

بین الاقوامی اسکالر ڈاکٹر لیف ہیٹ لینڈ نے پاکستان میں بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پرامن بقائے باہمی کے لیے تعمیری مکالمہ، باہمی احترام اور غیر مشروط محبت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر بین المذاہب رواداری کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ پروگرامز اور استعداد کار بڑھانے کی ورکشاپس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

Share This Article