پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پیر کو ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔ اجلاس میں ہاؤس بزنس کمیٹی نے سینیٹ کے تین سو انسٹھویں اجلاس کے دوران زیرِ غور آنے والے قانون سازی کے امور پر تفصیلی مشاورت کی اور آئندہ اجلاس کے ایجنڈے کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے قانون سازی کے معاملات کی ترجیحات اور ان پر کارروائی کے شیڈول پر بات چیت کے بعد اتفاق کیا کہ اہم قومی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی بحث کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے تاکہ پارلیمانی مباحثے مکمل اور مربوط انداز میں منعقد ہوں۔ ہاؤس بزنس کمیٹی کے شرکا نے مختلف قوانین کی تکمیل اور آئندہ قواعد و ضوابط کے نفاذ کے پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ہاؤس بزنس کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ سینیٹ کا موجودہ اجلاس تین مارچ دو ہزار چھبیس تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر قانون سازی کے زیرِ التوا امور کی انجام دہی کو ترجیح دی جائے گی۔ سیکریٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے کمیٹی کو موجودہ اجلاس کے دوران نمٹائے جانے والے قانون سازی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں آئندہ ایجنڈا اور مجوزہ قوانین کے موضوعات شامل تھے۔اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس، سینیٹر رانا ثناء اللہ خان، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر منظور احمد، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر کامل علی آغا، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شرکت کی اور قانون سازی کے شیڈول کو حتمی شکل دینے میں حصہ لیا۔کمیٹی کے اراکین نے متفقہ رائے دی کہ سینیٹ کے ایجنڈے میں شفافیت اور پیشگی مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہاؤس بزنس کمیٹی کے فیصلوں کے تناظر میں قانون سازی کے عمل میں تیزی اور مؤثر تعاون حاصل ہو سکے۔
