ہو چی منہ کی ’’پرزن ڈائری‘‘ کا اردو ترجمہ اسلام آباد میں متعارف

newsdesk
5 Min Read
پاکستان اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ہو چی منہ کی ’’پرزن ڈائری‘‘ کے اردو ترجمے کی رونمائی کی تقریب۔

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹ/کیمرہ: سلطان بشیر) — حکومتِ پاکستان کے نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے تحت پاکستان اکادمی ادبیات نے ویت نام کے معروف انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویت نام کے بانی ہو چی منہ کے شعری مجموعے ’’پرزن ڈائری‘‘ کے اردو ترجمے کی تقریبِ رونمائی 18 اگست 2026 کو اسلام آباد میں منعقد کی۔

یہ تقریب پاکستان اکادمی ادبیات کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں ہوئی، جس میں مختلف آسیان ممالک کے سفارتی نمائندوں، ادیبوں، دانش وروں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ ویت نام کے سفیر عزت مآب فان آن توان نمایاں مہمانوں میں شامل تھے۔ تقریب میں تھائی لینڈ کے سفیر، ملائیشیا کے ہائی کمشنر، برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر، کیوبا کے سفیر، انڈونیشیا کے ناظم الامور اور میانمار کے ناظم الامور بھی شریک ہوئے۔

چیئرپرسن پاکستان اکادمی ادبیات پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معزز مہمانوں اور سفارتی نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’پرزن ڈائری‘‘ محض ایک انقلابی رہنما کی روداد نہیں بلکہ انسانی آزادی، امید، حوصلے اور عزم کی شاعرانہ ترجمانی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ پاکستان اکادمی ادبیات اور ویت نام کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین ادبی اور ثقافتی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے آسیان ممالک کے ساتھ ادبی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معروف ادیب، شاعر اور دانش ور حلیم قریشی کے لیے فاتحہ خوانی کرائی، جن کا گزشتہ روز انتقال ہوا تھا، اور ان کی گراں قدر ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پروفیسر منیر فیاض اور سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے ’’پرزن ڈائری‘‘ کے مختلف پہلوؤں، ہو چی منہ کی شخصیت، شاعری اور جدوجہد پر اظہارِ خیال کیا اور کتاب سے منتخب اشعار پیش کیے۔ نشست کی صدارت کرتے ہوئے امداد آکاش نے ہو چی منہ کو مظلوم اقوام کے لیے جرات، مزاحمت اور آزادی کی علامت قرار دیا اور کتاب سے منتخب کلام سنایا۔

ویت نام کے سفیر عزت مآب فان آن توان نے ڈاکٹر نجیبہ عارف اور پاکستان اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہو چی منہ کی شاعری ویت نامی قومی فکر، آزادی اور خودمختاری کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے کتاب کے اردو اور انگریزی تراجم کو پاکستان اور ویت نام کے ادبی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

’’پرزن ڈائری‘‘ کو بیسویں صدی کے اہم ادبی کاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں قید، تنہائی اور انسانی دکھ کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی آزادی، امید، جرات اور غیر متزلزل عزم کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ محترمہ کوثر خانم نے کیا جبکہ محترمہ نجمہ ثاقب نے اس کی نظرثانی کی۔

تقریب کے اختتام پر ویت نام کے سفیر عزت مآب فان آن توان نے چیئرپرسن پاکستان اکادمی ادبیات، مقررین اور منتظمین کو یادگاری تحائف پیش کیے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معزز مہمانوں کو پاکستان اکادمی ادبیات کی مطبوعات پر مشتمل تحفے بھی پیش کیے۔

بعد ازاں سفارتی نمائندوں اور معزز مہمانوں نے پاکستان اکادمی ادبیات میں ویت نام کے سفارت خانے کی جانب سے لگائی گئی کتابوں کی نمائش اور ثقافتی اسٹال کا دورہ کیا۔ انہیں ویت نام کے بھرپور ادبی و ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے والی کتابوں اور مختلف ثقافتی نوادرات سے متعارف کرایا گیا۔

تقریب نے پاکستان، ویت نام اور آسیان ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون، باہمی فہم اور مضبوط روابط کے فروغ کے عزم کو مزید تقویت دی۔

پاکستان میں ویت نام کے امور کے ماہر، ’’پاکستان اِن دی ورلڈ‘‘ کے ایڈیٹر تزئین اختر نے ویت نامی ادب کے ترجمے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم قوم کے پہلے اور اعلیٰ ترین رہنما کے کام کا ترجمہ ایک اہم پہلو ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی عوام بالعموم اور پاکستان کے سیاست دان بالخصوص اس سے یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ قومیں محرومی سے اٹھ کر کیسے ترقی کرتی ہیں اور ان کے رہنما انہیں کامیابیوں اور کامرانیوں کی طرف کیسے لے جاتے ہیں۔

Share This Article