وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ہائر ایجوکیشن میں فیکلٹی کے پے اسکیل نظام پر قائم ٹاسک فورس کا آٹھواں اجلاس ہوا جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کے نمائندے شریک ہوئے۔ اجلاس میں تعلیمی معیار اور فیکلٹی کی اجرتوں کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔شرکاء نے اظہار تشویش کیا کہ ٹینیور ٹریک سسٹم کی تنخواہیں ۲۰۲۱ سے منجمد رہنے کے باعث ان میں موجود تقابلی فرق عملاً ختم ہو چکا ہے اور تقریباً ۳۵ فیصد فرق ختم ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے لیے باصلاحیت اساتذہ کو راغب کرنا اور انہیں برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال پے اسکیل سے متعلق فیصلہ سازی کو مزید ناگزیر بناتی ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا کہ یونیورسٹیوں میں اہل اور ہنرمند اساتذہ کی عدم دستیابی سے اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے پے اسکیل میں اصلاحات کے ذریعے ٹیلنٹ کو متوجہ اور برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیار اور میرٹ کو فروغ دینا حکومت کی ترجیح ہے۔اجلاس نے منظوری دی کہ ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت اساتذہ کو بیس لائن کے مطابق ۳۵ فیصد اضافی تنخواہ دینے کی سفارشات قبول کی جائیں۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ بہتر تنخواہوں کے ساتھ کارکردگی کے اشاریے سختی سے نافذ کیے جائیں تاکہ پے اسکیل کا نفاذ شفاف اور نتیجہ خیز ہو۔ ساتھ ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر یونیورسٹیوں کے بجٹ میں اضافہ یقینی بنانے، اور ہر پی ایچ ڈی کے یکساں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کی ۵۰ بہترین یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والوں کو خصوصی مراعات دینے پر بھی زور دیا گیا۔حکومت نے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم میں میرٹ، معیار اور ٹیلنٹ کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے اور یہ پے اسکیل اصلاحات یونیورسٹیوں میں فیکلٹی کی حوصلہ افزائی اور بہتر کارکردگی کو فروغ دیں گی۔ تاہم نفاذ اور دستیاب وسائل کے انتظام کو کلیدی قرار دیا گیا تاکہ یہ پے اسکیل اصلاحات عملی طور پر کامیاب ثابت ہوں۔
