صحت زندگی ہے، یہی پیغام صدر ترقی پسند فلاحی تنظیم محمد عامر صدیقی نے ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے موقع پر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو وہ زندگی کے بڑے چیلنجز سے نمٹ جاتا ہے جبکہ بیمار شخص کے لیے روزمرہ کے معمولات بھی مشکل بن جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہاتھ دھونا روزمرہ کی بنیاد ہے جو کئی خطرناک بیماریوں سے بچاتا ہے۔محمد عامر صدیقی نے کہا کہ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور یہی عقیدہ ہمیں حفظانِ صحت کی طرف راغب کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اللہ کریم نے ہمیں دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں تاکہ ہم متقی اور پرہیزگار رہیں، اور اسی شعور کا حصہ ہاتھ دھونا بھی ہے جو فرد اور معاشرے کی حفاظت کرتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پندرہ اکتوبر کو ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں بیماریوں سے بچاؤ کی عادات کو فروغ دیا جا سکے۔ بچے معاشرے کا وہ حصہ ہیں جو تیزی سے نئی عادات سیکھ لیتے ہیں، اسی لیے ابتدائی عمر میں ہاتھ دھونے کی تربیت انہیں تندرست اور توانائی سے بھرپور رکھتی ہے۔عامر صدیقی نے کہا کہ کم عمر بچوں میں جب ہاتھ دھونا اور صاف پانی کے استعمال کا شعور نہ ہو تو وہ جلد ہی متعدی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو کھانے سے قبل ہاتھ صابن سے دھونے کی عادت ڈالیں اور پینے کے پانی کو ابال کر دینے کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے کورونا وباء کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں دنیا کو سوؤں وبائی امراض کا سامنا رہا اور ہاتھ دھونا ان میں سے ایک موثر بچاؤ ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں ڈینگی جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی صاف ستھرا ماحول اور کھڑا پانی ختم کرنا لازمی ہے، کیونکہ صفائی ہی کئی بیماریوں کا اصل علاج ہے۔عامر صدیقی نے زور دیا کہ معاشرتی آگہی مہم کا محور بچے ہوں اور والدین، اساتذہ اور برادری مل کر ہاتھ دھونے کی عادات کو روزمرہ کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ ایک صحت مند اور بیماریوں سے پاک معاشرہ پروان چڑھ سکے۔
