سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں کالجِ سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ جنوبی پنجاب کی سالانہ تقسیمِ اسناد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں محض ڈگری کافی نہیں بلکہ ہنر، عملی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارتیں لازمی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہنر و سیاحت دونوں نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے بڑے مواقع پیدا کرتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد پیش کی اور ان کی محنت، لگن اور ثابت قدمی کو ان کی کامیابی کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے اس موقع پر اساتذہ اور والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی رہنمائی اور حمایت کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں۔گِلانی نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثہ اور منفرد ثقافتی شناخت سے مالا مال ہے اور بہت سے سیاحتی مقامات ابھی بین الاقوامی سطح پر متعارف کرائے جانے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خاص طور پر ملتان کی تاریخی اہمیت کی سیر کرنے کی ترغیب دی، اور یاد دلایا کہ ملتان پانچ ہزار سال سے زیادہ پرانا زندہ شہر ہے جس کی تہذیب اور روایات منفرد ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک جن کے قدرتی وسائل محدود تھے، سیاحت کے ذریعے مضبوط معیشتیں قائم کر چکے ہیں اور اسی سمجھ کی بنیاد پر انہوں نے گزشتہ عمر میں بطور وفاقی وزیرِ سیاحت کام کرنے کے تجربات کا حوالہ دیا۔ اس تناظر میں ہنر و سیاحت کو ملکی معیشت میں تیزی لانے کے لیے کلیدی عنصر قرار دیا گیا۔سینیٹر گیلانی نے اٹلی کے سفیر سے حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں روزگار کے مواقع موجود ہیں مگر ان سے فائدہ صرف انہی افراد کو پہنچ سکتا ہے جن کے پاس مطلوبہ ہنر ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہ سنہرا موقع ہے کیونکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لیے ریاستی اداروں اور فلاحی پروگراموں کے درمیان مربوط کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں تجویز پیش کی کہ بے نظیر امدادی پروگرام، بیت المال اور متعلقہ وزارتیں تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر ہنر مندی کے پروگرام کو مضبوط کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد پیشہ ورانہ مہارت حاصل کر سکیں۔گِلانی نے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مواقع کی نشاندہی کی اور کہا کہ یورپ، جرمنی اور امریکہ میں طلب موجود ہے اور پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے ادارے کی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی कामنائیں کیں اور ملک کی خارجہ پالیسی و سفارتی کاوشوں کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا اور معیشت میں بہتری کی توقع ظاہر کی۔
