اسلام آباد: قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمنگ نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے حالیہ واقعے میں پولیس کی جانب سے چالان جمع نہ کروانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لیے 2016 کے فوجداری ترمیمی قانون کے مؤثر نفاذ میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کریں، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کو روکا جا سکے۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کی، جس میں ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان کے واقعے پر غور کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقتولین بانو بی بی اور احسان اللہ کا مقدمہ ان کے قتل کے تقریباً 30 تا 40 روز بعد درج ہوا۔ یہ دونوں محبت کی شادی کے بعد اپنے خاندانوں کے بلانے پر ایک دعوت میں شریک ہوئے، جہاں جرگے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جس کے فوراً بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ اس واردات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکام نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت کیس درج کیا، کیوں کہ نہ لواحقین اور نہ ہی مقامی افراد کی طرف سے پولیس میں درخواست دی گئی تھی۔
کمیٹی نے واقعے کی تفتیش اور قانونی کارروائی میں تاخیر پر سخت ردعمل دیا اور فوری طور پر چالان جمع کروانے کی ہدایت کی۔ کچھ ملزمان کی گرفتاری کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی نے مرکزی ملزم کی فوری گرفتاری اور ملزمان کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت دی گئی کہ مقدمات کے اندراج سے لے کر سزا تک کے ٹریکنگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے اور آئندہ اجلاس میں اس کا طریقہ کار پیش کیا جائے۔
کمیٹی نے ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی بنیادی وجہ قوانین کے غیر مؤثر نفاذ کو قرار دیا۔ صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ 2016 کے قانون پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، تاکہ انصاف کی فراہمی اور اس قسم کے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
اجلاس کے دوران سندھ پولیس نے کراچی میں شادی کے بعد جنسی تشدد اور ہندو خاتون شانتی کے مبینہ قتل کے حالیہ کیس پر بھی بریفنگ دی۔ پولیس کے مطابق، رپورٹنگ میں تقریباً 20 دن کی تاخیر کے باوجود، تحقیقات مکمل کر کے ملزم خاوند کا اعترافی بیان حاصل کرکے چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ کمیٹی نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی۔
اجلاس میں معزز اراکینِ پارلیمنٹ، وفاقی اور صوبائی اہلکاروں سمیت مختلف وزارتوں اور محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے خیبر پختونخواہ کے حالیہ سیلاب متاثرین سے اظہار تعزیت اور یکجہتی بھی کیا۔
