فارِن میڈیکل گریجویٹس کا این آر ای بحران پر پارلیمنٹرینز اور پی ایم ڈی سی سے فوری مداخلت کا مطالبہ
اسلام آباد: فارِن میڈیکل گریجویٹس (FMGs) نے نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) 2025 کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹرینز اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہزاروں گریجویٹس کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
این آر ای 2025 کا انعقاد 14 دسمبر کو کیا گیا جس میں تقریباً 7 ہزار امیدواروں نے شرکت کی، تاہم صرف 1,473 امیدوار کامیاب ہو سکے، جن میں 1,467 میڈیکل جبکہ صرف 6 ڈینٹل گریجویٹس شامل ہیں۔ نتائج کے مطابق میڈیکل گریجویٹس کی کامیابی کی شرح 21.17 فیصد جبکہ ڈینٹل امیدواروں کی شرح محض 7.23 فیصد رہی۔ فارِن میڈیکل گریجویٹس کا کہنا ہے کہ اتنی کم کامیابی کی شرح امیدواروں کی صلاحیت کی بجائے امتحانی نظام میں موجود خامیوں کی عکاس ہے۔
فارِن میڈیکل گریجویٹس نے نشاندہی کی کہ این آر ای میں ببل شیٹ سسٹم استعمال کیا گیا، جو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے بیشتر ڈاکٹروں کے لیے غیر مانوس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فارِن گریجویٹس کمپیوٹرائزڈ یا اسٹرکچرڈ اسیسمنٹ سسٹمز کے تحت تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث ببل شیٹ امتحان میں انسانی غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے اور قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر علی نے کہا کہ موجودہ این آر ای فارمیٹ فارِن میڈیکل گریجویٹس کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ایم سی کیو کے لیے صرف ایک منٹ دیا جاتا ہے، جس کا بڑا حصہ ببل فل کرنے میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ کلینیکل سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔
ایک اور فارِن گریجویٹ ڈاکٹر عائشہ نے مطالبہ کیا کہ امتحان کے بعد امیدواروں کو ان کے نمبرز دیکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں اور دوبارہ امتحان کی بہتر تیاری کر سکیں۔
فارِن میڈیکل گریجویٹس کا متفقہ مؤقف ہے کہ این آر ای کے امتحانی نظام کو فوری طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مختلف تعلیمی پس منظر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
فارِن میڈیکل گریجویٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر رافی شیر نے امتحان کے انعقاد پر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی کوششوں کو سراہا، تاہم واضح کیا کہ اصل مسئلہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے فراہم کردہ فرسودہ اسیسمنٹ سسٹم ہے۔ انہوں نے شفافیت کے فقدان پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کو تفصیلی نتائج تک رسائی نہ دینا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر رافی شیر نے مزید بتایا کہ فارِن میڈیکل گریجویٹس کو این آر ای کے محدود امتحانی سیشنز کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایف ایم جی نمائندے پارلیمنٹرینز سے ملاقات کر کے سال میں این آر ای کے امتحانات کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کریں گے، کیونکہ یہ معاملہ ہزاروں اہل ڈاکٹروں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
فارِن میڈیکل گریجویٹس نے پی ایم ڈی سی اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ این آر ای سسٹم میں فوری اصلاحات کی جائیں، شفافیت کو یقینی بنایا جائے، امتحانی طریقۂ کار کو جدید بنایا جائے اور اہل طبی ماہرین کے پیشہ ورانہ مستقبل کا تحفظ کیا جائے۔
News Link: https://www.peakpoint.pk/en/2025/12/27/push-for-nre-reform-gains-momentum/
