اسلام آباد / پشاور: پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ایک نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کے بعد بیرون ملک سے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹس میں صورتحال پر وضاحت کی ضرورت زور پکڑ گئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نئی ریگولیٹری تبدیلیاں ان طلبہ پر لاگو نہیں ہونی چاہئیں جنہوں نے سابقہ پالیسی کے تحت داخلہ لیا تھا۔ اس فیصلے کو مختلف حلقوں کی جانب سے شفافیت اور انصاف کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے نمائندوں، جن میں ڈاکٹر رفیع شیر بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ متعدد طلبہ اب عارضی رجسٹریشن اور نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) میں اہلیت کے حوالے سے واضح ہدایات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے بروقت رہنمائی فراہم کریں تاکہ ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
اس معاملے پر پالیسی سازوں اور میڈیا سمیت مختلف فورمز پر بھی بحث کی جا رہی ہے، جہاں شفاف اور قابلِ پیشگوئی نظام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ بیرون ملک سے واپس آنے والے گریجویٹس کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ریگولیٹری ادارے اور طلبہ کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی جائے، جبکہ بروقت اور واضح رہنمائی کے ذریعے نوجوان ڈاکٹروں کو اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی فراہم کی جا سکتی ہے۔
