وفاقی وزیر برائے صحت میٹنگ کی صدارت کے دوران ملک میں ادویات کی دستیابی اور سپلائی چین کی مضبوطی کا مفصل جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں ادویات اور طبی آلات کی صنعت کے اہم نمائندگان، وفاقی سیکرٹری برائے صحت اور ادارہ برائے ادویات و ضابطہ سازی کے چیف ایگزیکٹو شریک تھے، جن کا مقصد ادویات کی دستیابی پر جامع حکمت عملی کی خامیوں اور قوتوں کا معائنہ کرنا تھا۔ ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ملکی و علاقائی چیلنجز کے پیش نظر تدارکی منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ہیلیم گیس کی فراہمی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جو کہ ایم آر آئی مشینوں کے لیے لازمی جزو ہے۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں نے ہیلیم گیس کی عالمی رسد کی صورتحال اور ممکنہ خلل کی روک تھام کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ صنعت کے نمائندگان نے دستیاب ذخائر اور متبادل انتظامات پر اپنی رپورٹس پیش کیں تاکہ طبی تشخیصی سہولیات متاثر نہ ہوں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ متوقع خطرات کے پیش نظر وزارت صحت اور ادارہ برائے ادویات و ضابطہ سازی نے ادویات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے ہیں اور اسی تندہی کی وجہ سے ملک میں آئندہ پانچ سے چھ ماہ کے لیے ادویات کے مناسب ذخائر برقرار ہیں۔ وزیر نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ضروری ادویات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور شہریوں کو صحت سے متعلق بنیادی اشیاء تک رسائی میں دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وزارت صحت اور ادارہ برائے ادویات و ضابطہ سازی صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں گے اور صنعت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ سپلائی چین میں کسی بھی خلل کا بروقت تدارک ممکن ہو۔ متعلقہ فریقین کو ہدایت دی گئی کہ رابطہ کاری بڑھائی جائے اور پیشگی حکمتِ عملی جاری رکھی جائے تاکہ ممکنہ مستقبل کے چیلنجز کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔میٹنگ میں کیے گئے فیصلوں اور ہدایات کا مقصد ادویات کی دستیابی کو مستقل بنانا اور طبی سہولیات کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ وفاقی سطح پر یہ واضح عزم دہرایا گیا کہ حکومت عوامی صحت کی خدمات کے تسلسل اور ادویات کی فراہمی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی تاکہ ملک کے شہری بلا روک ٹوک طبی ضروریات پوری کر سکیں۔
