پاکستان کے قانونی و انسانی حقوق نظام کو مقامی تناظر میں دیکھا جائے، اعظم نذیر تارڑ

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ یورپی پارلیمانی وفد سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اسلام آباد، 24 ستمبر 2026: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن محترمہ میری خان کی قیادت میں یورپی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، انسانی حقوق، قانونی امور، جی ایس پی پلس، جیو اسٹریٹجک معاملات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد میں مسٹر ڈینس ہوہلوخ، مسٹر اسٹینی سلاو اسٹویانوف، مسٹر توماش فروئلش، مسٹر ڈین پیڈوک اور مسٹر موزیز شامل تھے۔

ملاقات کے دوران سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو پاکستان کے آئینی و قانونی نظام، انسانی حقوق سے متعلق پالیسی اور متعلقہ قانونی فریم ورک پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے داخلی اور قانونی معاملات کو آئینی، قانونی، سماجی اور علاقائی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں نمایاں قربانیاں دی ہیں، اس لیے پاکستان میں انسانی حقوق اور سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے وقت ان حقائق کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قانونی نظام آئینی تقاضوں، ملکی قوانین اور مقامی حقائق کے مطابق کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی ضمانتیں موجود ہیں۔

وفاقی وزیر نے یورپی وفد کو پاکستان کے سائبر قوانین کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان قوانین میں اظہار رائے کی آزادی، معلومات تک رسائی، سائبر جرائم، مالیاتی فراڈ اور دیگر متعلقہ جرائم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سائبر قوانین کا یورپ، مشرق بعید اور شمالی امریکا کے قوانین کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا ہے اور اس سے متعلق دستاویز یورپی وفد کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش بھی کی۔

یورپی پارلیمانی وفد نے پاکستان کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اور خطے میں اسے درپیش چیلنجز کا اعتراف کیا۔ وفد نے مشترکہ مفادات اور مشترکہ چیلنجز کے پیش نظر پاکستان اور یورپ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفد کے ارکان نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی تناظر میں سمجھنا اہم ہے۔ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسانی حقوق، جی ایس پی پلس اور دیگر امور پر بامعنی مکالمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یورپی وفد نے کہا کہ پاکستان کے نقطہ نظر کو یورپی پارلیمنٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ وفد نے پاکستان اور یورپ کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے رابطوں اور مکالمے کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یورپی پارلیمنٹ میں ایک کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز بھی دی۔

ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور یورپ کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، پارلیمانی روابط اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Share This Article