کوئٹہ: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے جرمنی کے تعاون اور حکومت بلوچستان کی شراکت سے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ مکانات کی تعمیر کے منصوبے کے تحت 118 گھروں کی چابیاں متاثرہ خاندانوں کے حوالے کر دیں۔
یہ مکانات ضلع کوئٹہ کے علاقے ہنہ اُورک میں ان خاندانوں کو فراہم کیے گئے ہیں جن کے گھر 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ اس منصوبے کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ رہائش فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کمیونٹیز کی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔
گھروں کی حوالگی کی تقریب میں حکومت بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جن میں سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زیشان جاوید، چیف فارن ایڈ بٹول اسدی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر پلاننگ و کوآرڈینیشن نوید احمد شیخ اور بلوچستان میں جرمنی کے اعزازی قونصل میر مراد بلوچ شامل تھے۔ اس موقع پر مقامی حکام اور کمیونٹی نمائندگان بھی موجود تھے۔
یہ منصوبہ سیلاب کے بعد تعمیر نو اور رابطہ پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت بلوچستان میں مجموعی طور پر 700 موسمیاتی اور قدرتی آفات سے محفوظ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ مرحلے کے بعد اب تک 158 مکانات مکمل کر کے متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی گھروں کی تعمیر آئندہ چند ماہ کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ان گھروں کو اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ وہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے گھروں کی بنیادیں بلند رکھی گئی ہیں تاکہ سیلاب کے خطرے کو کم کیا جا سکے، ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ زلزلے کے دوران تحفظ فراہم کیا جا سکے اور بہتر ہواداری کا نظام رکھا گیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط شراکت داری کے ذریعے موسمیاتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور حکومت بلوچستان کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ رہائش فراہم کرنے اور موسمیاتی اثرات کے مقابلے کے لیے طویل مدتی استحکام پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
اس پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر کے علاوہ ہنہ اُورک کے علاقے میں کمیونٹی کی سطح پر بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے جس سے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے اور بلوچستان میں محفوظ اور مضبوط کمیونٹیز کے قیام میں مدد ملے گی۔
