بے نظیر بھٹو کو جمہوریت کی علامت قرار دیا گیا

newsdesk
2 Min Read
بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ پر خواتین پارلیمانی کاکس نے ان کی جمہوریت، خواتین کے حقوق اور سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر ان کی سیاسی، جمہوری اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان میں جمہوری اقدار کے فروغ، خواتین کی شرکت اور سیاسی شعور کی بیداری کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔اسلام آباد میں جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ایک ایسی رہنما تھیں جن کی جرأت، ثابت قدمی اور اصولی سیاست آج بھی ملک کی نئی نسل کے لیے مثال ہے۔ ان کے مطابق وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، اور مسلم دنیا میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی شخصیت بھی بنیں، جس سے خواتین کے لیے سیاست اور عوامی خدمت کے دروازے وسیع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو صرف ایک سیاسی نام نہیں تھیں بلکہ امید، جدوجہد اور ترقی کی علامت تھیں۔ ان کی سیاست کا بنیادی مقصد جمہوریت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کا فروغ تھا، اور ان کی یہی سوچ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر آج بھی اثرانداز ہے۔ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کے مطابق بے نظیر بھٹو نے تعلیم، صحت اور خواتین و محروم طبقات کے معاشی مواقع بہتر بنانے کے لیے بھی توجہ دی۔ ان کے اقدامات نے اس سوچ کو تقویت دی کہ ایک مضبوط معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب خواتین اور کمزور طبقات کو برابری کے مواقع ملیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین پارلیمانی کاکس بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق ایک ایسے پاکستان کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے جہاں جمہوری روایات مضبوط ہوں، برداشت کو فروغ ملے اور خواتین قومی ترقی میں برابر کی شریک ہوں۔اس موقع پر ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے نوجوانوں، خصوصاً نوجوان خواتین پر زور دیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی حوصلہ مندی، قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے سے رہنمائی حاصل کریں اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے