بنو میں سرکاری تعلیمی ادارے کے منہدم شدہ احاطے پر تجارتی اتحاد اور اساتذہ نے احتجاجی دھرنا قائم کر دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ مدرسہ نمبر دو کی تعمیر تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔ احتجاجیوں کا موقف ہے کہ بچوں کے مستقبل کو مزید خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا۔مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ثانوی ادارے کو تین سال قبل مسمارت کیا گیا تھا، تعمیر کے لیے فنڈز اور حتمی نقشہ منظور ہو چکا تھا مگر طویل عرصے سے نہ تو فنڈز جاری ہوئے اور نہ ہی عملی کام کا آغاز ہوا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سکول کے ملبے تک بیچ دیے گئے جس کے باعث صورتِ حال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔احتجاجی کیمپ میں گفتگو کرتے ہوئے صدرِ تجارتی اتحاد ڈاکٹر عبدالرؤف قریشی، منتظم ملک قاسم خان، فرمان اللہ میراکھیل، مولانا قدرت اللہ، حاجی ارسلا خان، اصغر خان وکیل، مولانا انور شاہ، مدثر خان، میزاعلہ خان اور فاروقی نے حکومت سے فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ نمبر دو—جو پہلے اسلامیہ کے نام سے پہچانا جاتا تھا—کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ڈاکٹر عبدالرؤف قریشی نے بتایا کہ مسمارت کے وقت فنڈز منظور ہو چکے تھے، ٹینڈرز جاری ہوئے اور ٹھیکیدار کو ورک آرڈر بھی دیا گیا تاہم اس کے باوجود منصوبہ رکا ہوا ہے۔ ملک قاسم خان نے الزام لگایا کہ منظور شدہ رقم ایک صوبائی اعلیٰ افسر کی مداخلت سے کسی دوسری تحصیل منتقل کر دی گئی، جو کہ بالکل غیر قانونی اور بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔شرکاء کا کہنا تھا کہ پہلے بھی عمارت کی مسمارت میں تاخیر کی گئی اور اب جبکہ عمارت ختم کر دی گئی اور ملبہ تک فروخت ہو چکا ہے تو تعمیراتی عمل مکمل طور پر رک گیا ہے، جس کے ذمہ دار کے طور پر انہوں نے محکمۂ مواصلات و تعمیرات کو نامزد کیا ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ مدرسہ نمبر دو کی تعمیر تک یہ احتجاج جاری رہے گا اور وہ کسی بھی صورت میں بچوں کے تعلیمی مستقبل سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔احتجاجی کیمپ میں اظہارِ خیال کرنے والوں نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فنڈز جاری کریں، مناسب سپردِ کار یقینی بنائیں اور مدرسہ نمبر دو کی تعمیر کا کام جلد از جلد شروع کروائیں تاکہ طلبہ کو مستقل تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
