استنبول، ترکی میں انٹر پارلیمانی یونین کی اسمبلی کے موقع پر ایشیا پیسفک گروپ کا اجلاس ہوا جس میں خطے کے پارلیمانی وفود نے امن، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی سلامتی کے مسائل پر بامقصد گفتگو کی۔ اجلاس میں پارلیمانی سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دی گئی اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ابھرتے ہوئے جیوپولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے پر زور دیا گیا۔ملکی وفد میں وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی، اسد عالم نیازی، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر محمد طلحہ محمود، سید شمعون ہاشمی اور نقاش ظفر شامل تھے۔ وفد نے جمہوری اقدار، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی امن کے حوالے سے ملک کی وابستگی واضح کی۔شرکاء نے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری قومی مفادات کا دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس موقع پر ارکان نے قانون سازی، تبادلۂ خیال اور پارلیمانی سطح پر رابطہ کاری کے فروغ پر زور دیا تاکہ علاقائی استحکام میں اضافہ ہو سکے۔اجلاس کے دوران مالی احتیاط کے اقدامات کا بھی ذکر ہوا اور بتایا گیا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کے تحت نمائندے ذاتی اخراجات پر اسمبلی میں شرکت کر رہے ہیں تاکہ عوامی وسائل کا محتاط استعمال جاری رہ سکے۔ اس اقدام کو حکومتی شفافیت اور ذمہ دارانہ مالی نظم کے عکاس کے طور پر پیش کیا گیا۔ایشیا پیسفک گروپ نے سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کو انٹر پارلیمانی یونین کی صحت کمیٹی کے لیے حمایت فراہم کی، جو پارلیمانی سطح پر صحت کے مسائل پر بین الاقوامی تعاون میں اضافے کی توقعات کا سبب بنے گا۔ سینیٹر چشتی کی شمولیت کو عوامی صحت میں موثر پارلیمانی مداخلت اور تعاون کے فروغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے رکن پارلیمانوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور انٹر پارلیمانی یونین کے دائرہ کار میں فعال کردار ادا کرنے کا عزم دہرایا۔ پارلیمانی سفارت کاری کو بطور ذریعہ اپناتے ہوئے گروپ نے خطے میں پائیدار تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
