پیر مہر علی شاہ ارید زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے جامع دورے کے دوران مختلف کلیات اور ادارہ جات میں جاری تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مختلف سہولت کاری کمیٹیوں کے ارکان بھی موجود تھے، جو تکنیکی، انتظامی اور تعلیمی معاونت کے لیے قائم کی گئی ہیں۔وائس چانسلر نے مختلف ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرمینز، اساتذہ اور انتظامی عملے سے ملاقاتوں میں جاری پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور تعلیمی پروگراموں، تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی بہتری کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کو بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے مطابق اپنے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی تمام شعبوں کے اساتذہ کے لیے تربیتی پروگراموں کی قیادت کرے گا۔ ان کے مطابق جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے واقفیت اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی اور طلبہ کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عملی علم فراہم کرنے میں مدد دے گی۔پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اس موقع پر کاروباری تعلیم کو بھی تمام تعلیمی شعبوں میں فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور قومی ترقی کے لیے طلبہ میں تخلیقی سوچ اور کاروباری رجحان پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بن سکیں۔انہوں نے نتائج پر مبنی تعلیم کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ تعلیمی اکائیوں کو ہدایت کی کہ نصاب کی بہتری، تدریسی طریقہ کار کی جدید کاری اور طلبہ کے سیکھنے کے نتائج کو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق مسلسل بہتر بنایا جائے۔وائس چانسلر نے متعلقہ حکام کو لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن، تدریسی سہولیات کی بہتری اور جامعہ کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید بنانے کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی۔ ان کے مطابق جدید تجربہ گاہیں، بہتر کلاس رومز اور معیاری تعلیمی وسائل طلبہ کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کریں گے اور مجموعی تعلیمی تجربے کو بہتر بنائیں گے۔
