لاہور میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے بدھ میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا تاکہ سری لنکا میں پیش آنے والے سیلابی حادثے کی سنگینی کا فوری جائزہ لیا جا سکے۔ رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک سو تئیس سے زائد افراد جانوں سے محروم ہو چکے ہیں، تقریباً ایک سو تیس افراد لاپتہ ہیں اور چوالیس ہزار سے زائد افراد خانہ بدوش ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر بدولا، نوورا ایلیا اور آس پاس کے علاقوں میں نازک بتائی جاتی ہے۔اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کی اور الخدمت نے فوری امدادی قافلے روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ الخدمت کا کہنا تھا کہ یہ امداد قومی آفات انتظامیہ اور حکومتِ پاکستان کے تعاون سے بھیجی جائے گی تاکہ سری لنکا سیلاب سے متاثرہ خاندانوں تک ریلیف بروقت پہنچ سکے۔اعلان کے مطابق ریلیف کنسائنمنٹ میں خیمے، ٹارپال، طبی ادویہ، صاف پانی، خوراک اور کمبل شامل ہوں گے تاکہ وہ گھرانوں کی فوری ضروریات کو پورا کیا جا سکے جنہوں نے اپنی بنیادی سہولیات کھو دی ہیں۔ امدادی سامان میں خاص توجہ طبی امداد اور پینے کے صاف پانی کے انتظام پر رکھی گئی ہے۔الخدمت کی ٹیمیں جلد ہی سری لنکا روانہ ہوں گی تاکہ مقامی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی راہ ہموار کریں۔ فیلڈ ٹیموں کا مقصد ضروریات کی درست نشاندہی کرنا اور امداد کو موثر انداز میں تقسیم کر کے متاثرین کی فوری معاونت کو یقینی بنانا ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور دوبارہ آبادکاری میں تعاون فراہم کرے گی۔ الخدمت کی یہ کارروائی متاثرین کی فوری ضروریات پورا کرنے اور آئندہ کے لیے بحران سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔
