ابھی مائیکرو فنانس بینک اور ڈیجی کھاتہ نے ایک باہمی معاہدے کے ذریعے چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے رسمی مالیاتی رسائی کو ممکن بنایا ہے۔ اس شراکت کا مقصد وہ تاجروں اور خردہ فروش ہیں جو ڈیجی کھاتہ کے پلیٹ فارم پر اپنے کاروباری لین دین کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھتے ہیں تاکہ انہیں بروقت کاروباری قرض فراہم کیا جا سکے۔
ڈیجی کھاتہ کے ذریعے تیار ہونے والے ڈیجیٹل کاروباری ریکارڈز بینک کو جہت یافتہ قرض کے اندازے کے لیے مضبوط شواہد فراہم کریں گے، جس سے تجارتی کریڈٹ کا جائزہ شفاف اور مؤثر طریقے سے لیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے بہت سے ایسے کاروبار جن کی روایتی طور پر دستاویزات محدود رہی ہیں، باقاعدہ مالیاتی دائرے میں آئیں گے اور ان کی ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔
شراکت داری کا مقصد کاروباری قرض کی فراہمی کے عمل کو آسان بناتے ہوئے تاجروں کی کاروباری سرمایہ کاری، اسٹاک مینجمنٹ اور نقد بہاؤ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس سے چھوٹے کاروباری حضرات کو اپنی سرگرمیوں کو بڑھانے اور روزمرہ کے مالی تقاضوں کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کی سہولت مل سکے گی۔
معاہدے پر مریم پرویز، چیف کمیونیکیشن آفیسر، ابھی مائیکرو فنانس بینک، اور عدنان اسلم، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈیجی کھاتہ نے دستخط کیے۔ تقریب میں کبیر نقیوی، انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس، ابھی فنانشلز اور دونوں اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
مریم پرویز نے کہا کہ یہ اشتراک بینک کی ٹیکنالوجی پر مبنی مالی امداد کے وژن کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے کاروباری قرض تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں مگر کئی مرکزی مالیاتی نظام سے باہر رہتے ہیں، اس لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دینا اہم ہے۔
عدنان اسلم نے بتایا کہ ڈیجیٹل ریکارڈز مالیاتی ڈیٹا فراہم کرتے ہیں جو قرض کی اہلیت کے تعین میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجی کھاتہ کے صارفین اب اپنی روزمرہ کی تجارتی سرگرمیوں کو مالیاتی مواقع میں بدل سکیں گے اور یہ شراکت ان کے کاروباری اقدامات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرے گی۔
ماہرین کے مطابق بروقت کاروباری قرض تک رسائی پاکستان میں چھوٹے کاروباروں کی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف قرض کے حصول کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکنالوجی کے زیرِاثر کاروباری ریکارڈنگ کے ذریعے زیادہ کاروبار باقاعدہ مالیاتی دائرہ کار میں شامل ہو سکیں گے، جو مجموعی طور پر مالی شمولیت اور معیشتی پائیداری کو تقویت دے گا۔
یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی منظرنامے میں اس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بینک مل کر کاروباری افراد کو دستاویزی قرض معیارات کے تحت سہولت فراہم کر رہے ہیں، جس سے کاروباری ترقی، نقدی بہاؤ کی بہتری اور ادارہ جاتی شمولیت کے اہداف حاصل ہوں گے۔
ابھی بینک اور ڈیجی کھاتہ نے کاروباری قرض کی راہداری بنائی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
