وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں زرعی و ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں فوری اقدامات اور طویل المدتی اصلاحات پر اتفاق ہوا۔ اس کمیٹی کا قیام وزیراعظم کی ہدایت پر عمل میں آیا ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ملک کی خوراکی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے جامع پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے۔اجلاس میں خصوصی طور پر کینولا کی کاشت کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا گیا اور کینولا کے بیج پندرہ دن کے اندر زرعی علاقوں تک پہنچانے کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ کھیتوں میں موجود نمی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ شرکاء نے روایتی فصلوں کے بجائے زیادہ منافع بخش فصلوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسان معاشی طور پر مضبوط ہوں اور منڈی میں بہتر طلب کو مدنظر رکھا جا سکے۔کمیٹی نے کسانوں کے لیے بلاسود قرضہ اسکیموں کے فروغ کی سفارش کی اور نجی سطح پر انشورنس کے نظام کی تشکیل پر بھی زور دیا گیا تاکہ موسمیاتی نقصانات کی صورت میں کاشتکار محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت کی ہدایت دی گئی تاکہ مالی معاونت اور انشورنس کو مربوط انداز میں نافذ کیا جا سکے۔وزارتِ منصوبہ بندی نے تین خصوصی ٹاسک فورسز تشکیل دینے کی ہدایت دی جس نے پندرہ دن کے اندر اندر تین مختلف پہلوؤں پر رپورٹس تیار کرنی ہیں۔ ان رپورٹس میں فوری زرعی امداد اور بیجوں کی فراہمی کے عملی طریقہ کار، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور لچکدار حکمتِ عملیاں، اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تیاری شامل ہوں گی۔ تیار کی جانے والی سفارشات وزیراعظم کو حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی تاکہ جلد از جلد نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے کہا ”موسمیاتی تبدیلی اب وقتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز ہمارے روزمرہ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہمیں خوراک کے تحفظ، مزاحمت اور پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا۔“ اس بیان سے واضح ہوا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو سنجیدگی سے لے کر مستقبل کے لائحہ عمل پر کام کر رہی ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے اعلان کیا کہ وہ صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شرکاء کے ساتھ مل کر ایک پائیدار، جامع اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زرعی مستقبل کی تشکیل کے لیے مربوط کوششیں کرے گی۔ اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز اور سفارشات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں تا کہ زرعی شعبے کی بحالی اور کسانوں کی فلاح و بہبود میں خاطر خواہ پیش رفت کی جا سکے۔
