پاکستان میں ایسے خاندان اب بھی موجود ہیں جو اپنے مرحومین کا وفات کا اندراج وقت پر نہیں کراتے یا اندراج ہونے کے باوجود شناختی کارڈ کی منسوخی کرانا بھول جاتے ہیں، جس کے باعث وراثت، پنشن اور دیگر قانونی امور میں مشکلات جنم لیتی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر نادرا نے اس صورتحال کے سدِباب کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں جن میں شناختی کارڈ کی منسوخی کی فیس ختم کرنا، صوبائی سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کو مضبوط بنانا اور وفات کی بایومیٹرک تصدیق کو لازم قرار دینا شامل ہے۔ یہ اقدامات وفات کے اندراج کے عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کی کوشش ہیں۔عملی طور پر جب کسی شخص کی وفات صوبائی رجسٹریشن نظام میں درج ہوتی ہے تو یہ واقعہ نادرا کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ جب قریبی رشتہ دار نادرا سے خدمات کے لیے رابطہ کرتا ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ پہلے صوبائی نظام میں درج وفات کی بایومیٹرک تصدیق کروائیں، اس کے بعد متوفی کا شناختی کارڈ منسوخ کیا جاتا ہے اور ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اگرچہ نادرا صوبائی ریکارڈ کی بنیاد پر خودکار منسوخی کا اختیار رکھتا ہے، مگر بایومیٹرک تصدیق کو حفاظتی قدم کے طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے کیونکہ صوبائی نظام میں اس وقت بایومیٹرک آلات دستیاب نہیں ہیں۔ابتدائی دشواریوں کے باوجود نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔ نافذ کردہ اصلاحات کے باعث وفات کے اندراج میں چھ گنا اضافہ درج کیا گیا ہے، ڈیٹا کی درستگی بہتر ہوئی ہے اور جعلی اندراجات نمایاں حد تک کم ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ مربوط نظام اور بایومیٹرک تصدیق سے عوامی اعتماد میں بہتری آتی ہے۔مزید سہولت کے لیے شہری اب پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے قریبی رشتہ دار کی وفات کے بعد شناختی کارڈ کی منسوخی کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں اور پنجاب کے تین اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت وفات کا اندراج بھی اسی ایپ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔ نادرا نے ایپ میں خاندانی ریکارڈ دیکھنے کی مفت سہولت اور ڈیٹا میں تضاد کی نشاندہی کا فیچر بھی شامل کیا ہے، جبکہ نادرا اور صوبائی حکومتیں قومی رجسٹریشن اور بایومیٹرکس پالیسی کے تحت اپنے نظام کو مربوط کر رہی ہیں۔نادرا شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ زندگی کے اہم واقعات بشمول وفات کا اندراج کو بروقت صوبائی رجسٹریشن نظام میں درج کروائیں اور خاندانی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ یہ نہ صرف قانونی ذمہ داری ہے بلکہ سرکاری سہولیات تک تسلسل کے ساتھ رسائی اور قومی ڈیٹا کی درستگی کے لیے بھی ضروری ہے۔
