ریاض، ۲ اکتوبر ۲۰۲۵۔ وفاقی وزیرِ آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ کی سعودی ڈیٹا و آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی کے صدر عبداللہ بن شرف الغامددی سے ملاقات میں دونوں جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں وسیع تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں سعودی وژن ۲۰۳۰ اور پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی کے تناظر میں باہمی مفادات اور اہداف کا تبادلۂ خیال ہوا۔فریقین نے واضح کیا کہ نیشنل اے آئی پالیسی کے اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے سعودی تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور باہمی تعاون کے ذریعے تربیتی پروگرامز اور صلاحیت سازی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اس موقع پر سعودی جانب کے منصوبۂ عمل خصوصاً "ایک ملین سعودی ماہرینِ اے آئی” ماڈل کی افادیت کو پاکستان کے تناظر میں اپنانے پر گفتگو ہوئی تاکہ تربیت کے ہدفات جلد حاصل کئے جا سکیں۔ملاقات میں دونوں طرف سے اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں ایک ملین اے آئی پروفیشنلز کی تربیت کے ہدف میں سعودی ماڈل سے استفادے کے ذریعے تیزی لائی جائے گی اور اعلیٰ معیار کے تربیتی کورسز، انسٹرکٹر ٹریننگ اور مشترکہ اسکالرشپ پروگرامز پر غور کیا جائے گا۔ نیشنل اے آئی پالیسی کے تحت اس نوعیت کے اقدامات کو ترجیحی حیثیت دی جائے گی۔قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی بات چیت ہوئی اور دونوں ممالک نے اے آئی ریگولیشنز، گورننس اور پرائیویسی سینڈ باکس کے قیام پر مشترکہ ورکشاپس کی تجویز پر اتفاق کیا۔ اس گفتگو میں نیشنل اے آئی پالیسی کے فریم ورک کو مقامی تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانے کے نکات زیرِ غور آئے۔تکنیکی شعبے میں اعلیٰ کارکردگی کمپیوٹنگ کی فراہمی اور قومی ڈیٹا ریپوزٹری کے قیام میں سعودی تکنیکی مدد فراہم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں جانب نے کہا کہ قومی ڈیٹا ریپوزٹری قائم کرنے سے ڈیٹا معیشت کو فروغ ملے گا اور تحقیق و ترقی کے لیے معیاری ڈیٹا رسائی ممکن ہو سکے گی۔مشترکہ تحقیق و ترقی کے فنڈز کے ذریعے زراعت، تعلیم، صحت اور سمارٹ سٹیز جیسے شعبوں میں عملی منصوبوں پر غور کیا گیا تاکہ نیشنل اے آئی پالیسی کے اہداف کے مطابق قومی سطح پر جدید حل متعارف کرائے جا سکیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے مشترکہ پائلٹ پراجیکٹس کی افادیت پر رضامندی ظاہر کی۔زبانوں کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی اور اردو اور عربی زبانوں میں مقامی بڑے لسانی ماڈلز تیار کرنے کے فروغ پر اتفاق کیا گیا تاکہ نیشنل اے آئی پالیسی کے اہداف میں لسانی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس تعاون میں ڈیٹا سیٹس، ماڈل تربیت اور ماڈلز کی اخلاقی جانچ شامل ہوگی۔ملاقات کے اختتام پر ڈیٹا اکانومی، ڈیٹا شیئرنگ اور قوموں کے ڈیٹا بینک ماڈل کے تبادلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقوں نے مشترکہ ورکشاپس اور تکنیکی ٹیموں کے ذریعے فالو اپ طرزِ عمل مرتب کرنے اور مفصل پلان تیار کرنے پر اتفاق کیا تاکہ طے شدہ اہداف بروقت اور مؤثر طریقے سے حاصل ہوں۔
