خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کی وفاقی پالیسیوں پر کڑی تنقید، سیلابی صورتحال اور معاشی بحران پر تفصیلی گفتگو

newsdesk
5 Min Read

پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کی وفاقی پالیسیوں پر کڑی تنقید، سیلابی صورتحال اور معاشی بحران پر تفصیلی گفتگو

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ساڑھے تین سال کا عرصہ مل چکا ہے مگر اس دوران معیشت کو بہتر کرنے کے بجائے مزید تباہی سے دوچار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو بھی اتنا ہی وقت دیا گیا تھا لیکن اس دوران سخت احتساب اور کڑی جانچ پڑتال ہوئی، جبکہ موجودہ حکمرانوں کو کھلی چھوٹ حاصل رہی۔

مزمل اسلم نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زراعت اور ماحولیاتی ایمرجنسی کے اعلان اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مزید رقوم دینے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں عالمی اداروں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے اور موجودہ حکومت بھی عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال سات سو ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مستحق افراد کو ان کا حق نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام عوام کو خود کفیل بنانے کے بجائے مستقل انحصار میں مبتلا کر رہا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے اعلانات محض بیانات ہیں۔ پاکستان کا صرف چار فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جس کا نصف خیبر پختونخوا میں ہے جبکہ دیگر صوبے اس معاملے میں بری طرح پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ تباہ حالی کا شکار ہے اور ملک خوراک کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت صفر شرح نمو کی طرف جا رہی ہے جبکہ قرضوں کا حجم تین سال میں 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے ہو گیا ہے۔ انہوں نے گندم اور چینی کے بحران کو حکومتی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ کارٹلز کو فائدہ پہنچانے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو اب تک 50 ارب ڈالر کی صلاحیتی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جو ملک کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئے معاہدے پاکستان کو مزید ڈالر کے قرضوں میں جکڑ دیں گے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حصے میں سابق فاٹا کے انضمام کے بعد اضافہ ہونا چاہیے لیکن وفاق اپنے وعدے پورے نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے پاس اربوں روپے موجود ہیں مگر وہ عوامی فلاح پر خرچ نہیں کر رہے، جبکہ خیبر پختونخوا نے ریکارڈ ترقیاتی اخراجات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے نے حالیہ سیلاب میں سب سے تیز اور مؤثر ردعمل دیا۔ متاثرہ خاندانوں کو براہ راست نقد امداد فراہم کی گئی اور شفافیت کے لیے ڈیجیٹل نظام استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہتر ریلیف آپریشن کیا۔

مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ آئی ایم ایف کا ریویو ایک بڑا امتحان ہوگا کیونکہ حکومت کو ٹیکسوں میں 1100 ارب روپے اکٹھے کرنے ہیں۔ انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی نمو کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار تیزی سے پاکستان سے نکل رہے ہیں اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ غیر ضروری بیرونی دوروں کے بجائے گھریلو بحرانوں پر توجہ دے اور ایک طویل المدتی حکمت عملی بنائے تاکہ پاکستان بار بار قرضوں، سیلابوں اور معاشی دباؤ کے چکر سے نکل سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے