احمد نواز خان کا انکشاف: 2010 سے 2024 تک چیف جسٹسِ پاکستان کی پنشن میں کئی گنا اضافہ، بیوہ کے لیے سرکاری سہولیات کا تفصیلی خاکہ
سینئر صحافی احمد نواز خان نے اپنے یوٹیوب پروگرام پرچار میں بتایا کہ وزارتِ قانون و انصاف نے سینیٹ آف پاکستان میں تحریری طور پر چیف جسٹسِ پاکستان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی پنشن اور مراعات کی مکمل تفصیلات جمع کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلومات وقفۂ سوالات کے دوران فراہم کی گئیں اور 2010 سے 2024 تک پنشن میں ہونے والے اضافے کا مکمل ریکارڈ ایوانِ بالا کے سامنے پیش کیا گیا۔
احمد نواز خان نے اپنے پروگرام میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ قانون کے مطابق 2010 میں چیف جسٹس کی ماہانہ پنشن پانچ لاکھ ساٹھ ہزار روپے تھی، جو 2011 میں چھ لاکھ چوالیس ہزار، 2012 میں سات لاکھ تہتر ہزار، 2013 میں آٹھ لاکھ پچاس ہزار، 2014 میں نو لاکھ پینتیس ہزار، 2015 میں دس لاکھ پانچ ہزار، 2016 میں گیارہ لاکھ پانچ ہزار، 2017 میں بارہ لاکھ سترہ ہزار، 2018 میں تیرہ لاکھ اڑتیس ہزار اور 2021 میں چودہ لاکھ باون ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2023 میں یہ پنشن سولہ لاکھ ستاون ہزار تھی جبکہ 2024 میں یہ بڑھ کر تئیس لاکھ نوّے ہزار روپے ماہانہ ہو گئی۔
پروگرام پرچار میں احمد نواز خان نے یہ بھی کہا کہ وزارتِ قانون نے جج کی بیوہ کو دی جانے والی مراعات کی تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق بیوہ کو سرکاری طور پر ایک ڈرائیور اور ایک اردلی فراہم کیا جاتا ہے، دو ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت ملتی ہے، ہر ماہ تین سو لیٹر پٹرول دیا جاتا ہے اور اس پنشن پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام معلومات تحریری شکل میں سینیٹ سیکرٹریٹ کو دی گئیں اور بعد ازاں میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں تاکہ عوام کو عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب کے بعد کی مالی اور سرکاری سہولیات کے بارے میں آگاہی مل سکے۔ احمد نواز خان نے نشاندہی کی کہ ان 14 برسوں میں نہ صرف پنشن کی رقم میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ مراعات کے پیکج میں بھی تسلسل کے ساتھ بہتری کی گئی، جو ریاستی پالیسی اور منصب کے وقار کی عکاسی کرتا ہے۔
Program Link: https://www.youtube.com/watch?v=wiQ4YvB0B5I
