گجرات میں صحافیوں کے مقدمہ بازی کے خلاف عدالت کا رخ

newsdesk
3 Min Read

گجرات میں صحافت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن نے صحافیوں کے خلاف مبینہ جعلی مقدمات کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جو سینئر صحافی سید ذوالفقار حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف ٹی وی چینلز کے بیوروچیفس اور رپورٹرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صدر گجرات پریس کلب عبدالستار مرزا، سابق صدر سید نوید شاہ، ای ایم اے کے صدر ذوالفقار حیدر اور صحافی رانا شہزاد کے خلاف درج ایف آئی آر کو صحافیوں نے جعلی اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ شرکاء کو ضلعی انتظامیہ سے ہونے والے پسِ پردہ مذاکرات اور قانونی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، صحافی برادری نے غیرقانونی حراست اور پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والے پرتشدد واقعہ کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں رِٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔

اجلاس میں صحافیوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں ہونے والے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے اہلکاروں کی پشت پناہی میں غنڈوں نے سینئر افسران کی موجودگی میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے اور ایسوسی ایشن نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر عطاالمنعم اور ڈی ایچ او ڈاکٹر اعتراز کو عہدوں سے ہٹانے کا تقاضا کرتے ہوئے انہیں حالات کی سنگینی کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ اجلاس میں نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او رانا عمر فاروق سے غیرجانبدارانہ انکوائری اور فوری ایکشن لینے کی درخواست بھی کی گئی۔

صحافیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور صحافی برادری اور انتظامیہ کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ گجرات کے صحافی ہمیشہ علاقائی امن اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے آئے ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایف آئی آر یا تشدد سے صحافت کی آواز دبائی جا سکتی ہے، تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔

صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ گجرات کے صحافی اپنا موقف ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے