اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کی سٹیزن ایکسپیرینس (سی ایکس) ٹیم نے ضلع سرگودھا کی تحصیل بھیرہ میں فیلڈ ریسرچ کی، جس کا مقصد زرعی شعبے کے لیے شناخت کیے گئے استعمالات کا جائزہ لینا اور ان کسانوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا تھا جو زرعی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پی ڈی اے کے مطابق شہری تجربہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت اس کے مینڈیٹ کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت اور نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کی تیاری کے ساتھ ساتھ اتھارٹی سرکاری خدمات کو ازسرنو منظم کرنے اور انہیں شہریوں کی ضروریات کے مطابق بنانے پر کام کر رہی ہے۔
اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ عوامی خدمات کی تشکیل لوگوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے پی ڈی اے نے کسانوں سے رابطہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ڈیجیٹل زرعی خدمات عملی طور پر کس طرح استعمال ہوں گی اور انہیں اس انداز میں ترتیب دیا جا سکے کہ زیادہ سے زیادہ افادیت حاصل ہو۔
سی ایکس ٹیم نے کسانوں سے گفتگو کر کے ہر شناخت شدہ زرعی استعمال کے پس منظر میں موجود مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ٹیم نے کسانوں کو میرا کسان اور ای زر خیز پورٹلز استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا تاکہ صارف کے نقطہ نظر سے معلوم کیا جا سکے کہ کس مرحلے پر عمل درست چلتا ہے اور کہاں رک جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں ایسے عملی مسائل سامنے آئے جو صرف دفتری تحقیق سے سامنے نہیں آ سکتے تھے۔
پی ڈی اے کی ٹیم اب گوجرانوالہ جائے گی، جہاں کاشتکار برادریوں کے ساتھ یہی مشق دہرائی جائے گی۔
اتھارٹی کے مطابق فیلڈ ریسرچ ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے پی ڈی اے شہری مرکزیت کو عملی شکل دیتی ہے۔ ڈیجیٹل خدمات کو مرکزی سطح پر تیار کر کے بعد میں شہریوں کو ان کے مطابق ڈھالنے کے بجائے، پی ڈی اے کسانوں کی آرا کو براہ راست ماسٹر پلان کے زرعی حصے میں شامل کرے گی۔ شہریوں پر مرکوز یہ تحقیق ایسی خدمات کے ڈیزائن میں مدد دے گی جنہیں اپنائے جانے کے امکانات زیادہ ہوں۔
بھیرہ، گوجرانوالہ اور بعد میں شامل ہونے والے اضلاع سے حاصل ہونے والے نتائج کو دستاویزی شکل دی جائے گی اور انہیں زرعی استعمالات اور ان کی بنیاد پر بننے والی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
