دیہی خواتین رہنماؤں کا تعلیم، حقوق کے تحفظ اور معاشی خودمختاری کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

newsdesk
7 Min Read
پودا پاکستان کی 19ویں سالانہ دیہی خواتین قیادت کانفرنس میں ملک بھر سے دیہی خواتین رہنما شریک ہیں۔

راولپنڈی/اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) — ملک کے تقریباً 100 اضلاع سے آئی ہوئی 600 سے زائد دیہی خواتین رہنماؤں نے لڑکیوں اور خواتین کے خلاف امتیازی رویوں کے خاتمے، کم عمری کی شادی کی روک تھام، تعلیم کے فروغ اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبات پوٹوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈووکیسی (پودا پاکستان) کے زیر اہتمام 19ویں سالانہ دیہی خواتین قیادت تربیتی کانفرنس کے پہلے روز سامنے آئے۔ تین روزہ کانفرنس 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی، جس میں ملک بھر سے دیہی خواتین رہنما، ارکان پارلیمنٹ، سماجی کارکن، ماہرین اور مختلف اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔

پودا کی بورڈ ممبر ممتاز اسکر نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں دیہی خواتین کی جدوجہد اور کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، اسلام آباد اور دیگر متعلقہ علاقوں میں منظور ہونے والے قوانین پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، جبکہ کم عمر لڑکیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کو ماں اور بچے کی صحت کے لیے اہم قرار دیا۔

پودا پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمینہ نذیر نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی کے بعد اصل توجہ اب ایسے مؤثر نظام وضع کرنے پر ہونی چاہیے جو کم عمر لڑکیوں کو تحفظ دیں اور ان کے حقوق پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق تعلیم، کم عمری کی شادی کی روک تھام اور خواتین کو بااختیار بنانے کی بنیاد ہے۔

“12 سالہ لازمی تعلیم کے ذریعے کم عمری کی شادی سے تحفظ” کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں رکن قومی اسمبلی اور ویمن پارلیمنٹری کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے تعلیم کو سماجی تبدیلی اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین زراعت، غذائی تحفظ، گھریلو معیشت اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں، تاہم انہیں تعلیم، صحت، جائیداد کی ملکیت، قانونی تحفظ، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے حوالے سے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی سابق بانی چیئرپرسن اور ہیومن کیپیٹل پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر افشاں تحسین نے کم عمری کی شادی کے لڑکیوں کی صحت، تعلیم اور خودمختاری پر منفی اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خواتین کی معاشی شرکت میں اضافے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ملالہ فنڈ کی ڈاکٹر نشاط ریاض نے کہا کہ تعلیم خواتین کی صلاحیتوں کو سامنے لانے اور جمہوری عمل میں ان کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پودا نے 2009 میں اپنی کانفرنس میں ملالہ یوسفزئی کو متعارف کرایا تھا، جب ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔

کانفرنس کے ایک اور اہم سیشن میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچستان سے سینیٹر ثنا جمالی نے دیہی علاقوں، خصوصاً بلوچستان میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے خواتین کے لیے بہتر انٹرنیٹ رسائی، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔

ورتھ ٹیک کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مہرین طلحہ نے خواتین کو آن لائن ہراسانی اور مالی فراڈ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے بینکنگ کوڈز اور پن کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، جبکہ آن لائن ہراسانی کی صورت میں اسکرین شاٹس سمیت ثبوت محفوظ رکھیں اور متعلقہ پلیٹ فارمز پر شکایت درج کرائیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بینکنگ سروسز کارپوریشن کی اسسٹنٹ چیف مینیجر مانیا بنگش نے خواتین کی مالی شمولیت کے لیے بینکنگ آن ایکویلیٹی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بینکوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے، خواتین کے لیے مخصوص مالی سہولیات فراہم کرنے اور مالی خدمات تک ان کی رسائی بہتر بنانے کی ضرورت بیان کی۔

بلوچستان کے ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی کسان اقصیٰ میروانی نے اپنی جدوجہد اور کامیابی کی کہانی بیان کی۔ وہ اپنے علاقے کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے زمین کی ملکیت حاصل کی۔ صدر پاکستان کے پرائیڈ آف پاکستان ایوارڈ 2025 کی وصول کنندہ اقصیٰ میروانی کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے زرعی خوراک کے نظام اور دیہی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی 100 خواتین میں بھی شامل کیا ہے۔ انہوں نے خضدار کے علاقے کوراک میں لڑکیوں کی تعلیم اور فنی تربیت کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ ان کی قائم کردہ اماں نعیمہ فاؤنڈیشن 1,264 افراد کو معاونت فراہم کر رہی ہے۔

کانفرنس کے اختتامی سیشن، “COP31 ترکیہ میں پاکستان کی دیہی خواتین رہنماؤں کی آواز اور نمائندگی”، میں شرکا نے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے متعلق تعلیم کو اسکول کی سطح سے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے منعقدہ اس سیشن میں زور دیا گیا کہ آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی میں خواتین کی ضروریات کو ترجیح دی جائے، کیونکہ دیہی خواتین موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے اور معاشی، سماجی اور عوامی زندگی میں ان کی بامعنی شرکت کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کو پاکستان کے پائیدار اور خوشحال مستقبل کے لیے اہم سرمایہ کاری قرار دیا۔

کانفرنس کے پہلے روز دیہی خواتین رہنماؤں نے اپنے مسائل، چیلنجز اور ممکنہ حل کے لیے سفارشات بھی پیش کیں۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیم کے فروغ، کم عمری کی شادی کے خاتمے، ڈیجیٹل تحفظ، معاشی خودمختاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Share This Article