خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں اینیمیا کم کرنے کا قومی منصوبہ شروع

newsdesk
2 Min Read
اسلام آباد میں قومی اینیمیا ریڈکشن پلان 2025–2030 کی افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول نے شرکت کی۔

اسلام آباد، 13 اکتوبر: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول نے قومی اینیمیا ریڈکشن پلان 2025–2030 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس قومی منصوبے کے تحت 2030 تک خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی، یعنی اینیمیا، کی شرح میں 50 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اینیمیا اور بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے صوبائی سطح پر ٹاسک فورسز کے قیام اور منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے خواتین، لڑکیوں اور بچوں کی صحت و غذائیت کو ملکی ترقی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند مائیں، بچیاں اور بچے معاشرے کی پائیدار ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول نے اسلام آباد میں بنیادی صحت کی سہولیات کے فروغ اور کمیونٹی کی سطح پر صحتِ عامہ کے اقدامات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی کاوشوں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو ضروری طبی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنے اور مقامی سطح پر صحت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

قومی اینیمیا ریڈکشن پلان 2025–2030 میں ماں اور بچے کی غذائیت بہتر بنانے، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن کا دائرہ بڑھانے، اسکریننگ اور علاج کی سہولیات میں بہتری لانے اور ضروری طبی اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

Share This Article