مدینہ منورہ، منگل 29 ستمبر 2026ء: پاکستان علماء کونسل نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والی 31 سفارشات اور تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ کانفرنس مملکت سعودی عرب کی فکری انحرافات کے سدباب کے لیے کی جانے والی کوششوں کے موضوع پر منعقد ہوئی۔
پاکستان علماء کونسل کے مطابق کانفرنس کی سفارشات فکری شعور کو مضبوط بنانے، اعتدال اور متوازن سوچ کے فروغ، تحقیق و تعلیم کی بہتری، ڈیجیٹل ماحول میں سامنے آنے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے اور علماء، تعلیمی اداروں، محققین، میڈیا تنظیموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک جامع رہنما خاکہ فراہم کرتی ہیں۔
دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین، انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ یہ کانفرنس علمی مکالمے، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی فورم ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے علماء، محققین اور ماہرین کو اس اجتماع میں موجودہ دور کے فکری مسائل کا جائزہ لینے، ان کی روک تھام کے طریقوں پر غور کرنے اور آگاہی و تعلیم کے مؤثر راستے تلاش کرنے کا موقع ملا۔
اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے زیر اہتمام اور گورنر مدینہ منورہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں یہ کانفرنس 27 اور 28 ستمبر 2026 کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں 9 مکالماتی نشستیں ہوئیں اور 56 ہم مرتبہ جائزہ شدہ تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، جن میں مملکت کے اندر اور باہر سے علماء، محققین اور ماہرین نے شرکت کی۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والی گفتگو اور پیش کیے گئے تحقیقی کام نے فکری انحرافات کے مقابلے میں سعودی عرب کے جامع طرزِ عمل کو نمایاں کیا، جس میں علمی، تعلیمی، ادارہ جاتی، ٹیکنالوجیکل اور پیشگی احتیاطی پہلو شامل ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر سائنسی تحقیق، ابھرتے ہوئے فکری چیلنجز کی بروقت شناخت، نوجوانوں میں آگاہی، ڈیجیٹل ذرائع کے ذمہ دارانہ استعمال اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے موجودہ معلوماتی ماحول کے تجزیے پر دی جانے والی توجہ کو قابلِ قدر قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کی سفارشات تحقیق اور علم کے تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ ان سفارشات میں فکری انحراف اور انتہاپسندی کے مطالعے کے لیے خصوصی تحقیقی یونٹس، قومی سطح کے ڈیٹا بیس، مستند علمی پلیٹ فارمز، قومی اشاریے، تعلیمی اقدامات اور فکری آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پروگرامز جیسے نکات شامل ہیں۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تعلیمی نصاب کی تیاری و بہتری، اساتذہ، علماء اور ماہرینِ تعلیم کے تربیتی پروگرامز، نوجوانوں کی معاونت اور تعلیمی، دینی، ابلاغی، ٹیکنالوجی اور دیگر پیشہ ورانہ اداروں کے درمیان تعاون سے متعلق سفارشات کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں قابلِ اعتماد اور علمی دینی مواد کو تقویت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ دینی رہنمائی سے ذمہ دارانہ استفادے کو فروغ دیا جانا چاہیے اور پیچیدہ معاصر مسائل کے حل کے لیے مختلف شعبوں کے علماء اور ماہرین کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔
کانفرنس میں تعاون کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ فکری چیلنجز سے نمٹنے کے تجربات کا بین الاقوامی سطح پر مطالعہ اور تبادلہ ہونا چاہیے، تاہم اس عمل میں ہر معاشرے کے سماجی، تعلیمی اور ثقافتی پس منظر کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ کو کانفرنس کی میزبانی پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ ادارہ فکری آگاہی، اعتدال، تحقیق، مکالمے اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم علمی اور بین الاقوامی کردار ادا کر رہا ہے۔ یونیورسٹی نے اس کانفرنس کو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجربات کے تبادلے اور سفارشات کی تیاری کا بین الاقوامی اجتماع قرار دیا ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس کی سرپرستی اور معاونت پر اظہارِ تشکر کیا اور یونیورسٹی کی انتظامیہ، علمی و انتظامی کمیٹیوں اور تمام شرکاء کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے اس علمی سرگرمی کو کامیاب بنانے میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے علمی تحقیق اور عملی اقدامات کے درمیان ربط مضبوط کرنے، فکری شعور، اعتدال، سماجی استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مسلسل تعاون کی راہ ہموار کی ہے۔
انہوں نے تعلیمی، مذہبی، میڈیا، سکیورٹی اور سماجی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ فکری چیلنجز کے مقابلے کے لیے جامع اور احتیاطی حکمتِ عملی کی تشکیل میں ادارہ جاتی اشتراک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے آخر میں مملکت سعودی عرب اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے نتائج محققین، اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے فکری آگاہی بڑھانے اور فکری انحرافات سے بچاؤ کے مؤثر طریقہ کار کی تیاری میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
