اسلام آباد/پشاور: شارپ پاکستان نے یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری منصوبے ’’خیبر پختونخوا، پاکستان میں کمزور زیرِ حراست افراد کے لیے انصاف تک رسائی اور تحفظ میں اضافہ‘‘ کے تحت ایک روزہ استعدادِ کار بڑھانے کی تربیت کا انعقاد کیا۔ تربیت کا موضوع انسانی حقوق پر مبنی سزا اور ڈیو پراسیس تھا۔
اس تربیتی نشست میں صوبے بھر سے قانونی ماہرین اور نظامِ انصاف سے وابستہ اہم اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا میں خیبر پختونخوا پولیس، پراسیکیوشن سروس، محکمہ جیل خانہ جات، پروبیشن ڈائریکٹوریٹ، ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس حکومتِ خیبر پختونخوا اور قانونی برادری کے نمائندے شامل تھے۔
تربیت کا مشترکہ مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی حقوق سے ہم آہنگ عملی طریقہ کار کو فروغ دینا تھا۔
تقریب کا باقاعدہ افتتاح حکومتِ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس غلام علی نے کیا، جبکہ انسپکٹر جنرل آف پریزنز خیبر پختونخوا ریحان گل خٹک مہمانِ خصوصی تھے۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے غلام علی نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تناظر میں ایسی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنانے، ڈیو پراسیس کی پاسداری اور ادارہ جاتی طریقہ کار کو پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مہمانِ خصوصی ریحان گل خٹک نے شارپ پاکستان کے اقدام کو سراہا اور خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کے فروغ، نظامِ انصاف کی استعدادِ کار میں اضافے اور کمزور زیرِ حراست افراد کے لیے انصاف تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ادارے کے مسلسل عزم کی تعریف کی۔
