رپورٹ: ندیم تنولی
اسلام آباد: اٹلی نے لیبر موبیلٹی معاہدے کے تحت 2028 تک پاکستانی کارکنوں کے لیے 10 ہزار 500 ورک پرمٹس مختص کر دیے ہیں، جس کے تحت ہر سال تقریباً 3 ہزار 500 پاکستانیوں کو قانونی طور پر اٹلی میں روزگار کے مواقع ملنے کی توقع ہے۔ حکومت پاکستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فراڈ، اقربا پروری اور استحصال کی روک تھام کے لیے نیا نظام تشکیل دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان ہجرت اور لیبر موبیلٹی کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کا مقصد پاکستانی کارکنوں کی محفوظ، قانونی اور منظم طریقے سے اٹلی روانگی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اٹلی کے ڈی کریٹو فلوسی پروگرام کے تحت 2028 تک پاکستانی کارکنوں کے لیے تقریباً 10 ہزار 500 ورک پرمٹس مختص کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا سالانہ حصہ تقریباً 3 ہزار 500 کارکنوں پر مشتمل ہوگا تاہم ہر سال حتمی تعداد اٹلی کی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کوٹے پر منحصر ہوگی۔
اٹلی میں پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع صرف ایک شعبے تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ زراعت، تعمیرات، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ، ہوٹل و مہمان نوازی، لاجسٹکس، مکینک، ٹیلی کمیونیکیشن، جہاز سازی، فوڈ پروسیسنگ، ماہی گیری، ہنرمندی اور صحت سے متعلق خدمات سمیت مختلف شعبوں میں ملازمتیں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ پروگرام بنیادی طور پر اٹلی کے آجروں کی طلب پر مبنی ہوگا۔ اس نظام کے تحت اٹلی کے آجر پاکستانی کارکنوں کا انتخاب کریں گے اور مخصوص مدت کے دوران الیکٹرانک طریقے سے اطالوی حکام کو درخواستیں جمع کرائیں گے۔ ان مخصوص دنوں کو کلک ڈیز کہا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کسی فرد کو اٹلی کا ورک پرمٹ جاری کرنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔
پاکستانی حکومت نے حقیقی اور ہنرمند کارکنوں کو ان مواقع سے فائدہ پہنچانے کے لیے ایک جامع نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بین ادارہ جاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں وزارت، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اور اٹلی میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کے حکام شامل ہیں۔
کمیٹی پروگرام کی نگرانی، پیش رفت کا جائزہ اور پاکستانی و اطالوی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔
حکومت اٹلی کے آجروں اور کاروباری تنظیموں کے ساتھ براہ راست رابطے بھی بڑھائے گی۔ پاکستانی کارکنوں کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت سے حکومت اور کاروباری اداروں کے درمیان رابطے کیے جائیں گے۔ لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو بھی اطالوی آجروں کے ساتھ براہ راست روابط قائم کرنے کی اجازت ہوگی۔
حکام کے مطابق بیرون ملک ملازمتوں کی طلب کو پاکستان کے موجودہ امیگریشن قوانین کے تحت جانچنے کے بعد ہی کارکنوں کو بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ درخواست گزاروں کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن، آن لائن کارروائی اور آگاہی مہم کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ تاخیر اور غلط فہمیوں کو کم کیا جا سکے۔
حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان اور اٹلی کا مشترکہ ورکنگ گروپ لیبر معاہدے کے تحت مسائل کے حل اور باہمی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا رہے گا۔
اس منصوبے کا ایک اہم مقصد پاکستانی شہریوں کو فراڈ سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ حکام کے مطابق بھرتی کے عمل میں صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز اور منظور شدہ سرکاری ادارے حصہ لے سکیں گے۔
بیرون ملک سے موصول ہونے والی ملازمتوں کی طلب اور ملازمت کے معاہدوں کی جانچ پڑتال درخواستوں کو آگے بڑھانے سے قبل کی جائے گی۔ کارکنوں کے لیے لازمی پروٹیکٹر رجسٹریشن اور امیگریشن کلیئرنس کا عمل بھی مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
حکومت کے مطابق پاکستان سے روانگی سے قبل کارکنوں کو ان کے منظور شدہ ملازمت کے معاہدے، تنخواہ، رہائش اور ملازمت کی دیگر شرائط سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
شکایات کے ازالے کے لیے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ، پروٹیکٹوریٹس آف ایمیگرنٹس اور اٹلی میں پاکستان کے سفارتی مشن کے ذریعے سہولیات دستیاب ہوں گی، جہاں کارکن اپنے مسائل کی شکایت درج کرا سکیں گے اور مدد حاصل کر سکیں گے۔
وزارت کے مطابق غیر قانونی ایجنٹوں اور جعلی بھرتی کے طریقوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔ آجروں اور کارکنوں کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا جبکہ بھرتی کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کی جائے گی۔
اٹلی میں روزگار کے لیے زیادہ سے زیادہ حقیقی اور ہنرمند پاکستانی کارکنوں کو اہل بنانے کے لیے ہنرمند افراد کا تصدیق شدہ ڈیٹا بیس بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ، نیوٹیک، ٹیوٹا اور دیگر فنی تربیتی ادارے شامل ہوں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی تربیت اور سرٹیفکیشن کو اٹلی کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ کارکنوں کو اٹلی میں اپنی ملازمت اور کام کے حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے زبان کی تربیت دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
درخواستوں، ورک پرمٹس، ویزوں، امیگریشن کلیئرنس اور کارکنوں کی بیرون ملک روانگی کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پیش رفت کا جائزہ لینے اور مسائل حل کرنے کے لیے باقاعدگی سے اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
وزارت کے مطابق ملازمتوں کے حصول، آجروں سے رابطوں اور معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت رپورٹس متعلقہ حکام، بشمول قومی اسمبلی، کو مسلسل پیش کی جاتی رہیں گی۔
حکومت نے عوام کو غیر قانونی ہجرت اور غیر مجاز بھرتی کرنے والوں سے خبردار کرنے کے لیے آگاہی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے 29ویں اجلاس کے دوران رکن کی جانب سے پوچھے گئے سوال اور وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی جانب سے اس کا جواب ایوان میں پیش کیا گیا۔

