پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مزید بامعنی بنانے پر اتفاق

newsdesk
5 Min Read
آئی ایس ایس آئی، وزارتِ خارجہ اور آسیان کمیٹی اِن اسلام آباد کے اشتراک سے 59ویں آسیان ڈے پر خصوصی سیمینار منعقد ہوا۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے وزارتِ خارجہ پاکستان اور آسیان کمیٹی اِن اسلام آباد (اے سی آئی) کے اشتراک سے 59ویں آسیان ڈے کی مناسبت سے خصوصی سیمینار “Pakistan and ASEAN: Navigating Our Future Together” کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان اور آسیان کے درمیان تعلقات کو مزید وسیع، عملی اور مستقبل شناس بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سیمینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فلپائن کے سفیر اور آسیان کمیٹی اِن اسلام آباد کے موجودہ چیئر، عزت مآب ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنینڈز نے کہا کہ امن و سلامتی، خوشحالی اور عوام کو بااختیار بنانا آسیان کے مستقبل کا مرکزی نکتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسیان کے تین بنیادی ستون، یعنی سیاسی و سلامتی تعاون، اقتصادی تعاون اور سماجی و ثقافتی تعاون، پاکستان اور آسیان کے بدلتے ہوئے تعلقات کے لیے بدستور اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور آسیان کے درمیان قریبی روابط ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں آسیان کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل عزت مآب داتو آستانہ عبدالعزیز نے آسیان اور پاکستان کے تعلقات کی مضبوط بنیاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مستقبل کے تعاون کے لیے مکالمے، اقتصادی و ٹیکنالوجیکل تعاون، رابطہ کاری اور عوامی مرکزیت پر مبنی ترقی کو اہم شعبے قرار دیا۔

پاکستان کو ایک دیرینہ شراکت دار کے طور پر دی جانے والی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر عزت مآب کرنل ریٹائرڈ پنگیران حاجی کمال باشاہ، ویت نام کے سفیر عزت مآب فام آنہ توان، میانمار کے سفیر عزت مآب وُنا ہان، تھائی لینڈ کے سفیر عزت مآب رونگ وُدھی ویرا بُتر، انڈونیشیا کے سفارت خانے کے منسٹر قونصلر رحمت ہندیارتا کسوما، اور ملائیشیا کے ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری و ڈپٹی ہیڈ آف مشن محمد علف شفیق بن محمد فوزی نے پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، ڈیجیٹل معیشت و سائبر سکیورٹی، زراعت و غذائی تحفظ، رابطہ کاری اور عوامی سطح کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔

آسیان کے لیے پاکستان کے سفیر زاہد حفیظ چوہدری نے آسیان کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور فل ڈائیلاگ پارٹنرشپ کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزارتِ خارجہ کے ایسٹ ایشیا اینڈ پیسیفک ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر حسینہ فاطمہ نے ادارہ جاتی تعاون میں مسلسل پیش رفت کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ فریم ورکس کو ٹھوس نتائج میں ڈھالنے کی گنجائش موجود ہے۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے آسیان کو علاقائی تعاون کا ایک اہم نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو زیادہ بامعنی اور نتائج پر مبنی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آسیان کی علاقائی اقتصادی یکجائی، خصوصاً آر سی ای پی، سے پیدا ہونے والے مواقع کی جانب توجہ دلائی اور پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ آئی ایس ایس آئی کی ایک مخصوص نشست کی تجویز دی تاکہ ابھرتے ہوئے امکانات سے آگاہی بڑھے اور اقتصادی روابط مضبوط ہوں۔

اس سے قبل تعارفی کلمات میں سی پی ایس سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے پاکستان اور آسیان کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی فہم میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ اختتامی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے پاکستان اور آسیان کی شراکت داری کو وسیع تر، گہرا اور مستقبل کی طرف دیکھنے والا بنانے پر زور دیا، جسے ادارہ جاتی، علمی، کاروباری اور تھنک ٹینک سطح کے مضبوط روابط کی حمایت حاصل ہو۔

سیمینار میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مسلسل مکالمے، عملی تعاون اور بہتر رابطہ کاری کے ذریعے مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ تقریب میں آسیان رکن ممالک کے سربراہانِ مشن اور نمائندوں کے علاوہ علمی حلقوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

Share This Article