اسلام آباد، 28 اگست 2026: ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں برزاوالی میں بدری تالاب کی بحالی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ری چارج پاکستان منصوبے کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاقے کے ایک اہم موسمی میٹھے پانی کے نظام کو بحال کرنا، مقامی آبادیوں کے لیے آبی تحفظ بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک کو مضبوط کرنا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فطرت پر مبنی حل میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی بدلتی ہوئی آب و ہوا کی علامات ہیں، جو عوام، ماحولیاتی نظام اور آبی وسائل پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے کے حل کا ایک حصہ فطرت کی اپنی اس صلاحیت کو بحال کرنے میں ہے جس کے ذریعے پانی کو جمع، محفوظ اور منظم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدری تالاب جیسے ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری دراصل طویل مدتی موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری ہے۔
بدری تالاب پر عملی کام کا آغاز ری چارج پاکستان کے لیے ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ یہ منصوبے کی اہم زمینی ایکو سسٹم بیسڈ ایڈاپٹیشن مداخلتوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا، زیر زمین پانی کی ری چارجنگ بہتر بنانا اور موسمیاتی لچک کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ اقدام تفصیلی تکنیکی جائزوں، سرکاری شراکت داروں اور مقامی آبادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کے بعد شروع کیا گیا ہے تاکہ بحالی کا عمل ماحولیاتی ضروریات اور مقامی ترجیحات دونوں کے مطابق ہو۔
ری چارج پاکستان 72.9 ملین امریکی ڈالر کا سات سالہ موسمیاتی موافقت کا منصوبہ ہے، جس پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ، وزارتِ آبی وسائل کے تحت وفاقی فلڈ کمیشن کے اشتراک سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو گرین کلائمیٹ فنڈ، دی کوکا کولا فاؤنڈیشن اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی معاونت حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں کام کرنے والا یہ منصوبہ فطرت پر مبنی حل کے ذریعے سیلاب اور خشک سالی کے خطرات کم کرنے، زیر زمین پانی کی ری چارجنگ بہتر بنانے، متاثرہ ماحولیاتی نظام بحال کرنے اور پاکستان میں موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
دی کوکا کولا فاؤنڈیشن کے صدر کارلوس پاگوآگا نے کہا کہ واٹرشیڈز کی لچک پیدا کرنے کے لیے مضبوط تعاون اور طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دی کوکا کولا فاؤنڈیشن کو ری چارج پاکستان کی معاونت پر فخر ہے، جو منصوبہ بندی سے عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور ایسے عملی فطرت پر مبنی حل فراہم کر رہا ہے جن کا مقصد آبی تحفظ بہتر بنانا اور آنے والی نسلوں کے لیے کمیونٹیز کو مضبوط کرنا ہے۔
بدری تالاب نسلوں سے قریبی آبادیوں، مویشیوں، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے لیے موسمی میٹھے پانی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ گاد کے جمع ہونے، قدرتی بہاؤ کے راستوں کی بندش اور پشتوں کے کٹاؤ نے اس کی پانی ذخیرہ اور برقرار رکھنے کی صلاحیت کم کر دی، جس سے اس کے ماحولیاتی افعال متاثر ہوئے اور مقامی آبادیوں کے لیے پانی کا دباؤ بڑھا۔ اس کی بحالی فطرت پر مبنی حل کی افادیت دکھانے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ماحولیاتی افعال بحال کرتے ہوئے موسمیاتی لچک کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں ری چارج پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر محمد فواد حیات نے اس اقدام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بدری تالاب منصوبے کے تحت عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہونے والی ایک کلیدی فطرت پر مبنی مداخلت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مہینوں میں 415 میٹر قدرتی بہاؤ کے راستے بحال کیے جائیں گے، تالاب کے ایک ہیکٹر رقبے سے گاد نکالی جائے گی اور 211 میٹر پشتوں کو مضبوط کیا جائے گا، جس سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 20,000 مکعب میٹر اضافہ ہو گا۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے اندازاً 2,957 گھرانوں کے لیے آبی تحفظ مضبوط ہو گا۔
گرین کلائمیٹ فنڈ کے ایشیا و بحرالکاہل خطے کے ڈائریکٹر ہیمنت منڈل نے کہا کہ بدری تالاب کی بحالی کا کام جی سی ایف کے تعاون سے جاری ری چارج پاکستان منصوبے کے تحت موسمیاتی مالیات کو ٹھوس موافقتی نتائج میں بدلنے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کے ذریعے یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ فطرت پر مبنی حل عوام اور ماحول دونوں کے لیے دیرپا فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔
بدری تالاب سے متعلق یہ کام 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ ری چارج پاکستان کے تحت منصوبہ بند متعدد فطرت پر مبنی مداخلتوں میں سے پہلی مداخلت ہے۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات دکھائیں گے کہ فطرت کے ساتھ مل کر کام کرنا کس طرح روایتی انفراسٹرکچر کی تکمیل کر سکتا ہے، آفات کے خطرات کم کر سکتا ہے، آبی تحفظ بہتر بنا سکتا ہے اور پاکستان کے موسمیاتی طور پر زیادہ کمزور علاقوں میں طویل مدتی لچک پیدا کر سکتا ہے۔
